تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے

تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے
تو مرے خوابوں میں جاگتا ہے یہی بہت ہے
زمانہ تجھ کو حریف کہہ لے اسے یہ حق ہے
مری نظر میں تو دیوتا ہے یہی بہت ہے
بہار میں تو نہ جانے کیسے کہاں پہ غم تھا
خزاں میں مجھ کو پکارتا ہے یہی بہت ہے
جہاں چراغوں کی لو خموشی سے چپ ہوئی ہیں
وہاں پہ آخر تو بولتا ہے یہی بہت ہے
خیالوں کے یہ سراب تجھ کو ڈبو ہی دیں گے
جسے تو کہتا ہے راستہ ہے یہی بہت ہے
گئے دنوں کی عجیب یادوں کو بھول جاؤ
تجھے اک عالمؔ جو چاہتا ہے یہی بہت ہے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے