تو کرے جو محبت وہ محبت دغا کرے

تو کرے جو محبت وہ محبت دغا کرے
بعد میرے نہ کوئی تجھ سے وفا کرے
پہلے پہل جتائے بے شمار محبت کہ حد ہو
اور پھر تم سےآہستہ آہستہ دھوکا کرے
وہ کہے دور ہو جاؤں میری آنکھوں سے
تو کرے منت اسکی اور اسے روکا کرے
ہجر کی کش مکش تجھے کھائے جائے
تو بھی کھائے چکر اور گر پڑا کرے
دوست آئے گے پوچھنے کہ کیسے ہو
نم آنکھیں لیئے تو میرا نام پکارا کرے
تو بھی کسی مزار پر چڑھائے چادر اور
ڈھول کی تھاپ پر رقصاں ہوا کرے
پھراسکی دید کی تو مانگے منت ہر سال
جا جا کے کسی مزار پر دھاگے باندھا کرے
تیرادل جب بھی گھبرائے اور تو
بے سکونی میں سجدے ادا کرے
ہاتھ پھیلائے رب کے آگے تو کرے سوال
یا رب اسے تو کب مجھکو عطا کرے؟
جا تجھے دیتی ہے دعا آج تہمینہ
جو میں نے کیا وہ صبر، تو بھی کیا کرے
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے