ٹوٹے پر چڑیاں

ٹوٹے پر چڑیاں
درختوں سے ہرے پتے ، ہوا کیوں نوچ لیتی ہے ۔۔۔!
وہ ان چڑیو ں کے ٹوٹے پَر،
کہاں پر بیچ دیتی ہے ۔۔۔!
انھیں جو مول کوئی لے
دکھوں سے تول کوئی لے
اگر دل میں یہ چبھ جائیں۔۔۔
تو گہرے نقش کھب جائیں
اگر ہم وقت سے چھپ کر کہیں بے وقت ہو جائیں
اور ان چڑیوں کی صورت ۔۔۔
وقعت اپنی ہم بھی کھو جائیں
تو کیا پھر بھی، لگا تار ایسے سناٹوں کی گہری دھول
یہاں اُڑ اُڑ کر آئے گی!
تو کیا پھر سوکھی سوکھی ٹہنیوں کی کوکھ میں غمناک سانسوں کو
وہی بپتا سنائے گی!
ہرے پتوں کی ہر کونپل
جو اپنی خشک آنکھوں میں، نمی کے پھول چنتی ہے
ٹپک کر بوند کی مانند، رشتے توڑ جائے گی!
ہم اپنی سسکیاں چل کر کسی خندق کی گہرائی میں
جا کر دفن کر آئیں!
ہوا کے تیز ناخن بھی تراش آئیں
تو پھر ان ٹوٹے پَر چڑیوں کو بھی،
پرواز آئے گی
ہماری بے صدا باتوں میں بھی،
آواز آئے گی!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے