ٹوٹ جاؤ گے تم ، ہم بکھر جائیں گے حادثہ اس طرح یہ گزر جائے گا

ٹوٹ جاؤ گے تم ، ہم بکھر جائیں گے حادثہ اس طرح یہ گزر جائے گا
وقت سے بازیاں کون جیتا یہاں ، وقت فاتح ہے فاتح ہی کہلائے گا
ہم سنیں گے ترے قہقہوں کی کھنک زندگی اس طرح نغمہ بن جائے گی
اپنا کیا ہے یہاں ہنس نہ پائے اگر روتے روتے ہی جیون گزر جائے گا
روشنی کا حوالہ رہو تم سدا تیری آنکھوں کے جگنو چمکتے رہیں
یاد رکھنا اگر ہم جو بھٹکے کبھی سارا الزام تیرے ہی نام آئے گا
مجھ کو ماضی میں تم قید کر کے صنم سائباں اپنی یادوں کا اک تان دو
پھر قیامت ہو یا وقت کا حادثہ جو بھی آئے گا آ کر گزر جائے گا
تیرے لکھے ہوئے خط جلائیں تو کیا تیری ہر اک نشانی مٹائیں تو کیا
کون روکے گا تیرے خیالات کو کون یادوں کو زنجیر پہنائے گا

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے