توبۃ النصوح – فصل سوم

فصل سوم
فہمیدہ اور منجھلی بیٹی حمیدہ کی گفتگو
فہمیدہ: تم کو جواب چند روز سے نماز پڑھتے دیکھتی ہے تو پرسوں مجھ سے پوچھنے لگی کہ اماں جان دن میں کئی مرتبہ ابا جان ہاتھ منہ دھو کر یہ کیا کیا کرتے ہیں؟ پہلے دیر تک بڑے ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ چپ کے چپ کے کچھ باتیں کرتے جاتے ہیں۔ پھر جھکتے ہیں۔ پھر منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔
میں : بیٹی نماز پڑھتے ہیں۔
حمیدہ: اماں جان نماز کیا؟
اس استعجاب کے ساتھ پوچھنا، یہ پہلی چٹکی تھی کہ اس نے میرے دل میں لی۔
میں : بیٹی، خدا کی عبادت کو نماز کہتے ہیں۔
حمیدہ: اماں جان خدا کیا چیز ہے اور عبادت اس کی کون ہے؟
اس کا بھولے پن سے یہ پوچھنا تھا کہ خدا کیا چیز ہے اور عبادت اس کی کون ہے کہ میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
میں : کیوں، کیا تم خدا کو نہیں جانتیں؟
حمیدہ: میں سب لوگوں کو خدا کی قسم کھاتے تو سنتی ہوں اور جب کبھی اماں جان، تم خفا ہوتی ہو تو کہا کرتی ہو خدا کی مار، اور تجھ سے خدا سمجھے۔ شاید خدا بیچا کو کہتے ہیں مگر بیچا ہوتی تو اس کی قسم نہ کھاتے۔
میں : حمیدہ توبہ کرو توبہ، خدا بیچا نہیں ہے۔ خدا وہ ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے۔ وہی روزی دیتا ہے، وہی مارتا ہے، وہی جلاتا ہے، وہی پالتا ہے۔
حمیدہ: کیا اماں جان تم کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے؟
میں : ہاں مجھ کو بھی۔
حمیدہ: اور ابا جان کو بھی؟
میں : ہاں تمہارے ابا جان کو بھی۔
حمیدہ: اور ننھی بوا کو بھی؟
میں : ہاں ننھی بوا کو بھی۔
حمیدہ: اماں جان، کیا ہر روز ہمارے گھر میں کھانا نہیں پکتا؟
میں : کیوں نہیں پکتا۔
حمیدہ: پھر تم تو کہتی ہو کہ خدا سب کو کھانے کو دیتا ہے۔
میں : اللہ تعالیٰ پانی برساتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غلّے اور میوے اور ترکاریاں ہم لوگوں کے واسطے زمین میں اگاتے ہیں۔
وہی ہم سب لوگ کھاتے ہیں۔
حمیدہ: ننھی بوا کو تو اماں جان تم دودھ پلاتی ہو۔
میں : دودھ بھی اللہ تعالیٰ ہی اتارتے ہیں۔ تمہاری ہی دفعہ اسی دودھ کے پیچھے برسوں مصیبت اٹھائی۔ چھٹی تک الغاروں دودھ تھا۔ چھٹی نہا کر اٹھی کہ یکایک جاڑا چڑھا۔ بخار آیا تو کس شدت کا کہ الامان۔ تمام بدن سے آنچ نکلتی تھی۔ وہ پہر پھر کا بخار آنا اور دودھ کا تاؤ کھا جانا۔ پھر بہتیری ستاول پھانکی، زیرہ پیا، حکیم کا علاج کیا۔ تمہارے دادا جان، خدا جنت نصیب کرے، ہر روز صبح کو طشتری لکھ دیا کرتے تھے۔ مگر دودھ کچھ ایسی گھڑی کا سوکھا تھا کہ پھر نہ اترا پر نہ اترا۔ جب دیکھا کہ بچی بھوک کے مارے پھڑ کی چلی جاتی ہے، چار و نا چار انار گھی اور وہ عذاب اٹھائے کہ خدا دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ خدا نے زندگی بخشی تھی کہ تم پل گئیں۔
حمیدہ: تو اللہ تعالیٰ بڑے اچھے ہیں۔ ہم سب کو کھانے کو دیتے ہیں۔ ہماری ننھی بوا کے واسطے دودھ اتارتے ہیں۔ لیکن اماں جان، اللہ میاں سے ہمارا کچھ رشتہ ناتا ہے کہ انتے سلوک کرتے ہیں؟
میں : رشتہ ناتا یہ کہ ہم ان کے بندے ہیں۔ مرد ان کے غلام ہیں، عورتیں ان کی لونڈیاں ہیں۔
حمیدہ: لونڈی غلاموں کے ساتھ اتنا سلوک کوئی اپنے بچوں کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔ لیکن لونڈی غلام تو اپنے مالک کی خدمت کرتے ہیں، تہل کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کا کون سا کام کرتے ہیں؟
میں : یہی نماز جو تم نے اپنے باپ کو پڑھتے دیکھی اور جس کو عبادت کہتے ہیں۔
حمیدہ: ہاں ! تمان اللہ تعالیٰ کا کام ہے تو سب ہی کو نہ پڑھنے چاہئے، کیوں کہ لونڈی غلام سب ہیں، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روٹی سب کھاتے ہیں۔
میں : بے شک خدا کی عبادت سب پر فرض ہے۔
حمیدہ: اماں جان تم نماز نہیں پڑھتیں۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کی لونڈی نہیں ہو اور کیا تم اس کی دی ہوئی روٹی نہیں کھاتیں؟ حمیدہ نے جو سادہ دلی اور بھولے پن سے یہ الزام دیا، مجھ کو اس قدر شرم آئی کہ زمین پھٹ گئی ہوتی تو میں سما جاتی۔
میں : میں لونڈی بے شک ہوں اور خدا ہی کی دی ہوئی روٹی کھاتی ہوں لیکن بعضی لونڈیاں نکمی، کام چور، نمک حرام اور بے غیرت نہیں ہوتیں۔ ویسی ہی اللہ تعالیٰ کی ایک لونڈی ہوں۔
حمیدہ: ابا جان بھی تو اب بیماری سے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ہیں۔ کیا اس سے پہلے وہ خدا کی دی ہوئی روٹی نہیں کھاتے تھے۔
یہ سب کر نصوح کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے۔
میں : وہ بھی برا کرتے تھے۔
حمیدہ: اچھی اماں جان! اللہ تعالیٰ خفا ہوئے ہوں گے۔
میں : خفا ہونے کی تو بات ہی ہے۔
حمیدہ: ایسا نہ ہو کہ روٹی بند کر دیں تو پھر ہم کہاں سے کھائیں گے اور اگر ننھی بوا کا دودھ سوکھ گیا تو ہماری ننھی روئے گی۔ یہ کہہ کر حمیدہ رونے لگی۔ میں نے اٹھا کر گلے سے لگا لیا اور پیار کیا۔ لیکن جس قدر میں اس کی تسلی دیتی تھی وہ اور دگنا روتی تھی۔ مجھ سے بھی ضبط نہ ہو سکا اور مجھ کو روتے دیکھ کر اور بھی بے تاب ہو گئی۔ آخر بڑی مشکلوں سے میں نے اس کو سنبھالا اور کہا کہ حمیدہ تم ڈرو مت۔ اللہ میاں کا یہ دستور نہیں ہے کہ جو لونڈی غلام کام نہ کریں ان کا کھانا بند کر دیں۔
حمیدہ: سچ؟
میں : ہاں ہاں۔ تم گھبراؤ مت۔
حمیدہ: اچھی اماں جان! ننھی کو پلا کر دیکھو دودھ ہے یا نہیں۔
میں : بیٹی، ننھی کو سونے دو اور دودھ سے اطمینان رکھو۔ دودھ خدا کا دیا ہوا بہت ہے۔
حمیدہ: ہمارے گھر میں تو لونڈی غلام نہیں، نو کر چاکر ہیں مگر کام نہیں کرتے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ ابا جان جرمانہ کر دیتے ہیں۔ گھر سے نکال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے لونڈی غلاموں پر بھی خفا نہیں ہوتے تو ایسے مالک کا کام تو اور بھی جی لگا کر کرنا چاہیے۔ کیا کام نہ کرنا اور کھانا بے غیرتی نہیں ہے؟
میں : بڑی بے غیرتی کی بات ہے۔
حمیدہ: اماں جان، میں نے تو آج تک نماز نہیں پڑھی اور نہ مجھ کو نماز پڑھنی آتی ہے اور تم تو دن رات میں دو ہی مرتبہ کھانا کھاتی ہو، میں نہیں معلوم کتنی دفعہ کھاتی ہوں۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ ضرور خفا ہوں گے۔ یہ کہہ کر پھر میں نے سمجھایا کہ حمیدہ ڈرو مت۔ اللہ تعالیٰ تم سے نا خوش نہیں ہیں۔ ابھی تم بچی ہو۔ تم کو نماز معاف ہے۔
حمیدہ: کھانا تو مجھ کو بھی سب کے برابر بلکہ سب سے اچھا اور زیادہ ملتا ہے۔
میں : ہاں ملتا ہے اور یہ بھی خدا کی مہربانی ہے کہ تم کو کام معاف کر رکھا ہے۔
حمیدہ: پھر اللہ تعالیٰ مجھ کو کیوں کھانا دیتے ہیں؟
میں : اس واسطے کہ جب بڑی ہو جاؤ تو اس کے بدلے کا بہت سا کام کرو۔
حمیدہ: لیکن کیا اب میں کام نہیں کر سکتی؟ دیکھو، میں تم کو پان بنا دیتی ہوں، ابا جان کو پانی پلا دیتی ہوں، ننھی بوا کو بہلا لیتی ہوں۔ کیوں اماں جان کرتی ہوں؟
میں : ہاں بوا ہاں، تم تو میرے بہت کام کرتی ہو۔ پنکھا جھل دیتی ہو، دھاگا بٹ دیتی ہو، سوئی میں دھاگا پرو دیتی ہو، جو چیز مجھ کو درکار ہوتی ہے، لے آتی ہو۔
حمیدہ: تو کیا میں اللہ تعالیٰ کا کوئی چھوٹا سا کام بھی نہیں کر سکتی؟ کیا نماز پڑھنا مشکل کام ہے؟ میں تو دیکھتی ہوں، ابا جان ہاتھ منہ دھو کر ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ کیا تنا مجھ سے نہیں ہو سکتا؟
میں : اس کے سوا کچھ پڑھنا بھی ہوتا ہے، جس کو تم کہتی تھیں کہ چپکے چپکے باتیں کرتے جاتے ہیں۔
حمیدہ: وہ کیا باتیں ہیں؟
میں : خدا کی تعریف اور اس کے احسانوں کا شُکریہ، اپنے گناہوں کا اقرار اور ان کی معافی کی درخواست، اس کے رحم کی تمنا، اس کے فضل کی آرزو، بس یہی نماز ہے۔
حمیدہ: یہ سب باتیں اسی طرح نہ کرتے ہوں گے، جیسے ہم لوگ آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔
میں : اور کیا۔
حمیدہ: مگر ابا جان تو کچھ اور ہی طرح کی بولی بولنے لگتے ہیں۔
میں : وہ عربی زبان ہے۔
حمیدہ: وہ تو میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اماں جان تم جانتی ہو؟
میں : نہیں میں بھی نہیں جانتی۔
حمیدہ: تو کیا خدا سے عربی ہی زبان میں باتیں کرنی ہوتی ہیں؟
میں : نہیں وہ سب کی بولی سمجھتا ہے۔ بلکہ وہ دلوں کے ارادوں اور طبیعتوں کے منصوبوں سے واقف ہے۔
حمیدہ: یہ کیوں کر؟
میں : اس واسطے کہ وہ ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔ کوئی چیز، کوئی بات اس سے مخفی نہیں۔ سب کو دیکھتا ہے، سب کو سنتا ہے، اگلے پچھلے کل حالات اس کو معلوم ہیں۔
حمیدہ: (گھبرا کر) کیا اللہ تعالیٰ یہاں ہمارے گھر میں بھی بیٹھے ہیں؟
میں : گھر میں کیا ہمارے پاس بیٹھے ہیں مگر ہم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔
یہ سن کر حمیدہ نے جلدی سے اوڑھنی اوڑھ لی اور سنبھل کر مودب ہو بیٹھی اور مجھ سے آہستہ سے کہا، "اماں جان سر ڈھک لو۔ اس کے بعد حمیدہ پر کچھ ایسی ہیبت غالب آئی کہ میری گود میں تھوڑی دیر تک چپ پڑی رہی۔ آخر آنکھ لگی، سو گئی۔ میری ٹانگیں سُن ہونے لگیں، تو میں نے آہستہ سے چار پائی پر لٹا کر بیدار کو پاس بٹھا دیا کہ دیکھ ہاتھ رکھے رہیو، ایسا نہ ہو لڑکی سوتے سوتے ڈر کر چونک پڑے اور میں یہاں چلی آئی۔ مجھ کو حمیدہ کی با توں سے ڈر لگا کہ اندر سے کلیجہ تھر تھر کانپا جاتا تھا۔
نصوح: کیوں، ڈر کی اس میں کیا بات تھی؟
فہمیدہ: میں کہتی تھی کہ ایسی چھوٹی سی لڑکی اور ایسی باتیں۔ کچھ اس کو ہو تو نہیں گیا۔
نصوح: مذہب میں بڑی خوبی اور عمدگی تو یہی ہے کہ وہ ایسی با توں کی تعلیم کرتا ہے جن کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ مسائل دینی آدمیوں کے بنائے ہوئے معمے اور لوگوں کی گھڑی ہوئی پہیلیاں نہیں ہیں کہ اب کے حل کرنے اور بوجھنے کو بڑا غور و خوض درکار ہو، بلکہ اس حکیم بر حق کے باندھے ہوئے اصول اور ٹھہرائے ہوئے ضابطے ہیں اور اصول بھی کیسے سلیس اور آسان، ضابطے سہل اور بدیہی۔ نہیں معلوم انسان کی عقل پر کیا پتھر پڑے ہیں کہ اتنی موٹی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ زمین آسمان، چاند، سورج، ستارے، انواع و اقسام کے حیوانات، رنگ برنگی کے نباتات، ساری دنیا، تمام زمانہ، اتنا بڑا کارخانہ س میں ایک پتا اٹھا کر دیکھو تو ہزارھا صنعتوں سے بھرا ہوا ہے، آخر خود بہ خود تو نہیں ہو گیا ضرور کوئی اس کا بنانے والا ہے اور پھر اس نے جو انسان کو ایک خاص صفت عقل عطا کی ہے، کچھ تو اس تخصیص کا مطلب ہے۔ مگر ہے کیا انسان اس تصور کو اپنے ذہن میں آنے ہی نہیں دیتا، ورنہ ساری خدائی خدا کی گواہی دے رہی ہے :
برگِ درختان سبز در نظر ہوشیار
ہر ورقے دفتریست معرفت کردگار
حمیدہ نے کوئی بات اچنبھے کی نہیں کہی۔ اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ ہم میں نادان بچوں کے برابر بھی عقل نہیں۔ ڈوب مرنے کی جگہ، زمین میں، گڑ جانے کا مقام ہے۔ بلکہ حمیدہ کی با توں کو میں ایک نیک فال اپنی کامیابی کی سمجھتا ہوں۔ افسوس ہے، تم اس کو میرے پاس نہ لے آئیں۔ اس کی ہر ہر بات لوح دل پر کندہ کرنے ے لائق ہے اور یہ باتیں اس نے کیا کہیں، خدا نے اس کے منہ سے کہلوائیں۔ بیٹی کیا ہے، سچ پوچھو تو ہمارے لئے ہدایت کا فرشتہ ہے اور بچے جو معصوم کہلاتے ہیں، اسی سبب سے کہ ان کے دل لوث دنیا سے پاک اور تیرگی، گناہ سے صاف ہوتے ہیں۔ الحمد للہ کہ ایک سے تو اطمینان ہوا۔ اب یہ بتاؤ کہ اوروں کے واسطے کیا انتظام کرنا ہو گا؟
فہمیدہ: تم ہی کوئی تجویز سوچو۔
نصوح: میں نے تو یہ سوچاہے کہ لڑکیوں کو تو تم سنبھالو اور لڑکوں کو میں سمجھ لوں گا۔
فہمیدہ: بھلا میں بھی تو سمجھوں کیوں کر سمجھ لو گے، کہ وہی تدبیر میں بھی کروں۔
نصوح: میں پہلے چھوٹوں سے شروع کروں گا۔ امید ہے کہ جلد راہ پر آ جائیں۔ بڑوں کا مجھ کو بڑا کھٹکا ہے۔ یہ تو میں خوب جانتا ہوں کہ یہ نیا ڈھنگ دیکھ کر ان کے کان کھڑے ہوں گے مگر نہیں معلوم کس سے کیا معاملہ پیش آئے۔ تم اتنا کرو کہ ایک تو میرا تمہارا دونوں کا کام ایک ساتھ شروع ہو۔ جب اندر باہر دونوں جگہ ایک ہی بات کا چرچا ہو گا تو کوئی یہ نہ کہہ سکے گا کہ دیکھو، خاص کر ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔ اولاد اولاد سب برابر، ان سے کچھ تعرض نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ تمہاری ہر ادا سے یہ بات پیدا ہو کہ اس معاملے میں ہم دونوں کو ایک اہتمام خاص ہے۔ کیوں کہ ذرا سا ضعف بھی ظاہر ہو گا، تو تمام تر انتظام درہم برہم ہو جائے گا۔
فہمیدہ: انشاء اللہ اس کے خلاف نہ ہو گا۔
ڈپٹی نذیر احمد
 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے