توبۃ النصوح – فصل دوم

فصل دوم
خواب سے بیدار ہو کر نصوح کو اپنی اور اپنے خاندان کی لا یعنی زندگی پر سخت تاسف ہوا اور اس نے تلافی مافات کا عہد کر کے فہمیدہ اپنی بی بی سے ماجرائے خواب بیان کیا اور اصلاحِ خاندان کے لیے اس کو اپنا مدد گار بنایا۔
باپ نے جو یہ اپنی رام کہانی سنائی، بیٹے پر اسطرح کی ہیبت چھائی کہ چونک پڑا، جاگا تو پھر وہی دالان تھا اور وہی تیمارداریوں کا سامان۔ بی بی پاس بیٹھی آہستہ آہستہ پنکھا جھل رہی تھی۔ میاں کی آنکھ کھلی ہوئی دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی ورنہ جس گھڑی سے میاں نے جی برا کیا تھا، سہموں کے مارے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں تھا۔ نصوح آٹھ بجے ڈاکٹر کی دوا پی کر جو پڑا تھا تو اس وقت کا سویا سویا اب کہیں دو بجے جا کر ہوشیار ہوا، چونکہ ڈاکٹر کہہ گیا تھا کہ نیند اگر آ گئی تو جاننا کہ بیمار بچ گیا، اس کے سو جانے سے سب کو تسلی سی ہو گئی تھی مگر جب زیادہ دیر ہوئی تو عورتیں پھر گھبرانے لگیں کہ نہیں معلوم کم بخت ڈاکٹر کیسی دوا پلا گیا ہے کہ دوپہر پڑے پڑے گزر گئی، کروٹ تک نہیں بدلی۔ خدا جانے اندر سے جی کیسا ہے اور دل پر ایسی کیا آن بنی ہے، کیوں کر ہوش آئے گا، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ نصوح بیدار ہوا تو بی بی نے پوچھا، کسی طبیعت ہے؟ اچھے سوئے کہ گھر میں رونا پیٹنا ہوا کیا اور تم کو خبر نہیں۔ بولو، بات کرو کہ اوپر والوں کو تسلی ہو۔ کسی بچے کے منہ میں دانہ تک گیا ہو تو حرام۔ چھوٹے بڑے کل کا کھائے ہوئے ہیں۔ روتے روتے لڑکیوں کی آنکھیں سوج گئی ہیں۔ لڑ کے ہیں کہ مضطر اور پریشان پھرتے ہیں۔
بی بی نے ہر چند دل جوئی کی باتیں کی، مگر نصوح کو خواب کا سارا ماجرا پیشِ نظر تھا، مطلق جواب نہ دیا۔ بی بی سمجھی کہ بیماری کی وجہ سے بولنے کو جی نہ چاہتا ہو گا مگر وہ خدشہ سب کے دل سے رفع ہو گیا۔ مبارک سلامت ہونے لگی اور گھر بھر نے بے رمضان کی عید منائی، گو دیر ہو گئی تھی مگر لوگ بھو کے تھے، بازار سے حلوہ پوری منگوا کر سب نے تھوڑا بہت کھایا پیا۔ کھانے ہی میں کسی نے یہ بات بھی چھیڑ دی کہ مریض کا غسل صحت ہو تو ایک رت جگا بڑی دھوم سے کیا جائے اور اچھے ہونے کی شادی کریں۔
یہ لوگ تو شادی اور رت جگے کے ارادے کر رہے تھے اور نصوح اپنے خواب کے تصور میں غلطاں و پیچاں تھا، اسکا دل مان گیا تھا کہ یہ خواب میرے وہم و خیال کا بنایا ہوا تو ہر گز نہیں ہے، ہو نہ ہو یہ ایک امر من جانب اللہ ہے، خواب کیا ہے رویائے صادقہ اور الہام الٰہی ہے۔ باپ کا اظہار اس نے ایسی توجہ سے سنا تھا کہ حرف بہ حرف نوک زبان یاد تھا۔ جتنے الزام باپ پر لگائے گئے تھے، غور کرتا تھا تو سب اپنے میں پاتا تھا بلکہ باپ کی حالت سے اپنی حالت کو مقابلہ کرتا تھا تو کچھ نسبت نہ تھی۔ ان مرحوم کا یہ حال تھا کہ نماز روزے کے پابند، ورد و وظائف کے مقید، معاملے کے صاف، بیوپار کے کھرے، لوگوں کے دیکھنے سے محتاط، پرہیز گار، متقی، دین دار اور یہاں نماز بھی تھی تو گنڈے دار۔ عیدیں تو ضرور، اس واسطے کہ عید سے بڑھ کر مسلمانوں کا کوئی تہوار نہیں، اس سے بھاری کوئی میلہ نہیں۔ برس روز میں یہی دو دن تو ساز و سامان کی نمائش کے ہوتے ہیں۔ کوئی اپنے نئے شاندار کپڑوں میں اکڑ رہا ہے، کوئی گھوڑے کو چھیڑ چھیڑ کر کداتا ہوا، قصداً لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا پھاڑتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی نو کروں کی ہٹو بڑھو سن کر پھولا ہوا ہے، کوئی کرائے یا مانگے کے تانگے پر سوار، گاڑی بان سے کہتا” "چوہدری کیسا سڑیل تانگہ بنا رکھا ہے، گدا ہے تو میلا، پوشش ہے تو پھٹی۔ نہ بیلوں کے گلے میں گھونگرو، نہ پہیوں میں جانجھ۔ خیر اب عید گاہ کا وقت قریب ہے اتنا تو کر کہ وہ آگے یکہ جا رہا ہے اس کے برابر لگائے چل، مرد آدمی تجھ کو انعام لینے کا بھی سلیقہ نہیں۔ ”
رہا جمعہ، اگر کپڑے خوب صاف ہوئے اور دھوپ بھی ایسی سخت نہ ہوئی، دن ابر و باد سے پاک ہوا، دوست آشناؤں سے ملنے کو جی چاہا تو جامع مسجد چلے گئے ورنہ محلے ہی کی مسجد میں ٹرخا لی۔ یا دل میں تاویل کر لی کہ شرائطِ جمعہ میں اختلاف ہے۔ پنج وقتی کو تو کبھی فرض، واجب کیا مستحب بھی نہیں سمجھا۔ صبح اور ظہر اور عشاء تو عمر بھر پڑھی نہیں کیونکہ عین سونے کے وقت تھے۔ رہی عصر سو ہوا خوری اور سیرِ بازار، خرید و فروخت، دوست آشناؤں کی ملاقات، دنیا بھر کی ضرور توں کو بالائے طاق رکھتے تو ایک نماز پڑھتے۔ مغرب کے واسطے تو عذر ظاہر تھا، وقت کی تنگی۔ جب تک پھر پھرا کر آتے حمرتِ شفق زائل ہو جاتی تھی۔
یہ تو اس عبادت کا حال تھا جس کو ثواب بے زحمت و اجرِ بے تکان کہنا چاہیئے اور جس عبادت میں ذرا سی تکلیف بھی تھی جیسے روزہ یا زکوۃ، حتی الوسع کوئی نہ کوئی حیلہ شرعی اس سے معاف رہنے کا سوچ لیا جاتا تھا۔ رجب کا مہینہ آیا اور روزوں کے ڈر کے مارے ایک عجیب طرح کا سہم چڑھا۔ سب سے آسان نسخہ یہ کہ کسی طبیب کے یہاں آنا جانا شروع کیا۔ انہوں نے چند روزہ زندگی کے واسطے وہ بکھیڑے کھڑے کر رکھے ہیں کہ روئے زمین پر ان کے نزدیک کوئی تندرست ہی نہیں۔ یوں ملنے یا ملاقات کرنے جاؤ تو پان کے عوض نسخہ حوالے کر دیتے ہیں اور جہاں ایک دفعہ دوا لی اور روگ لگا۔ رمضان آتے آتے طبعیت خاصی محتاجِ مسہل ہو گئی اور حکیم صاحب کی بدولت روزوں سے بچ گئے۔ زکوۃ کا ٹال دینا کچھ بڑی بات نہ تھی۔ نصاب پر حولِ کامل کیوں گزرنے دیں کہ زکوۃ دینی پڑے، جب دیکھا کہ برس پورا ہونے آیا، بی بی کے نام زبانی ہبہ کر دیا، گھی کہاں گیا کھچڑی میں۔ جب بی بی پر وجوبِ زکوٰۃ کا وقت آیا تو پھر اپنے نام ہبہ کرا لیا اور ٹھٹھیرا بدلائی کر کے حکم خدا کو بالا بتایا۔ مال کو ایسے پیرائے میں رکھا کہ زکوٰۃ سے بری رہے، خاصی طرح دکانیں مول لیں، مکان بنوائے، ان میں کرائے دار بسائے کہ مال نامی آپ نامی زکوٰۃ ندارد۔
غرض جہاں تک نصوح احتساب کرتا تھا، اپنے تئیں دین سے بے بہرہ، ایمان سے بے نصیب، نجات سے دور، ہلاکت و تباہی سے قریب پاتا تھا۔ جس عملِ نیک پر نظر کرتا، یا تو سرے سے اس کے اعمال نامے میں تھا ہی نہیں اور تھا بھی تو ایک عمل اور سینکڑوں رخنے، ہزاروں فساد۔ دو چار نمازیں بھی تو کاہلی اور بے دلی و ریا سے خالی نہیں۔ کبھی جاڑے کے دنوں میں یا افطار و سحور میں شریک ہونے کی نظر سے جو روزے رکھنے کا اتفاق ہوا تھا تو ان میں دکھاوے اور ظاہر داری کا نقص تو تھا ہی، تکلیف کی شکایت سے نیکی برباد گناہ لازم۔ کبھی کسی بھو کے ننگے کو وہ چیز جو اپنے مصرف کی نہ تھی، دی تو اس کو یوں اکارت کیا کہ ایک دفعہ دے کر سو سو بار احسان جتایا اور یہ سمجھے کہ بے چارے محتاج کو عمر بھر کے واسطے مول لے لیا۔ خلاصہ یہ کہ کوئی عمل نیک نہ تھا جو خاصۃ للہ ہو اور انصافاً اس کے ثواب کی توقع، اس کے اجر کی امید کی جائے۔
ان خیالات نے نصوح کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ بے اختیار ہو کر رویا اور کہنے لگا کہ الٰہی مجھ سے زیادہ نا لائق، نابکار، ناکس، نا ہنجار بھی کوئی شخص ہو گا کہ میں نے اپنی ساری عمر تیری نا فرمانی میں کاٹی۔ کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، یا پیدا ہوا تھا تو معصیت پر قدرت نہ رکھتا۔ کوئی ایسی سخت مصیبت مجھ پر پڑتی کہ سر کھجانے کی فرصت نہ دیتی، مجھ پر بجلی نہ گری، آسمان نہ ٹوٹ پڑا، مجھ کو سانپ نہ سونگھ گیا، ہیضہ کر کرا کے میں بے حیا پھر اٹھ بیٹھا۔ لعنت ہو مجھ پر اگر اب مدت العمر گناہ کے پاس پھٹکوں۔ تف ہے میری زندگی پر اگر پھرمعصیت پر اقدام کروں۔ یہ عہد اپنے جی میں استوار کر کے اس کو پھر اپنی عمر تلف شدہ کا خیال آ گیا اور دل میں کہنے لگا کہ میں نے ساری عمر جو اس تباہ حالت میں غارت کی، اسکی تلافی کچھ بھی میرے اختیار میں نہیں اور بڑی بے انصافی ہے کہ میں جرم کروں اور سزا نہ پاؤں، گناہ کروں اور اسکا پاداش نہ بھگتوں۔ نصوح کو اپنے گناہوں پر اس وقت اتنی ندامت تھی کہ مرنے کو وہ اپنی ایک ادنٰی سی سزا سمجھتا تھا۔ گھر بھر اس کے جانبر ہونے کی خوشی منا رہا تھا اور اس کو افسوس تھا کہ میں مر کیوں نہ گیا۔ علالت کی وجہ سے اٹھنے سے معذور تھا مگر تکیے پر اوندھا سر کیے ہوئے پڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدایا میں تو اس قابل ہوں کہ دوزخ میں جھونک دیا جاؤں مگر جو تو نے اپنے فضل سے پھر چند روز کے واسطے مجھ کو دنیا میں رکھ لیا ہے تو ایسی توفیق عطا کر کہ نیکو کاری اور تیری اطاعت اور فرمانبرداری میں رہوں اور میری زندگی دین دارانہ زندگی کا نمونہ ہو۔
اپنے نفس کے احتساب سے فارغ ہوا تو نصوح کو خاندان کا خیال آیا۔ دیکھا تو بی بی بچے سب ایک رنگ میں ہیں : دنیا میں منہمک، دین سے بے خبر۔ تب یہ دوسرا صدمہ نصوح کے دل پر ہوا کہ واحسرتا میں تو تباہ ہوا ہی تھا، میں نے ان تمام بندگانِ خدا کی پاٹ ماری۔ اپنی شامتِ اعمال کیا کم تھی کہ میں نے ان سب کا وبال سمیٹا۔ مجھ کو خدا نے اس گھر کا مالک اور سردار بنایا تھا اور اتنی روحیں مجھ کو سپرد کی تھیں۔ افسوس میں نے ودیعتِ ایزدی کو تلف کیا اور امانتِ الٰہی کی نگہداشت میں مجھ سے اس قدر سخت غفلت ہوئی۔ یہ سب لوگ میرے حکم کے مطیع اور میری مرضی کے تابع تھے۔ میں نے اپنا برا نمونہ دکھا کر ان سب کو گمراہ کیا، اگر میں قدغن رکھتا تو یہ کیوں بگڑتے اور یہ بگڑے تو آخر ان سے جو نسل چلے گی اور بھی بگڑے گی۔ غرض دنیا میں بدی کا بیج بو چلا۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے ہوتے ہیں، باقیات الصالحات اور یادگارِ نیک دنیا میں چھوڑ جاتے ہیں، میں ایسا بدبخت ہوا کہ مجھ سے یادگار بھی ہے تو بدی۔ جب تک میری نسل رہے گی بدی بڑھتی اور پھیلتی جائے گی، جب یہ لوگ خدا کے روبرو جواب دہی کے واسطے حاضر ہونگے تو آخر کہیں گے کہ ہم کو کسی نے راہِ نیک بتائی ہی نہیں، تو میں کیا جواب دونگا؟ یہ خیال کر کے نصوح پھر ایک مرتبہ پکار کر رویا اور دوسرا عہد اس نے یہ کیا کہ جتنے لوگ میرے خاندان میں ہیں سب کی اصلاحِ وضع کرونگا اور پھر اس نے خدا سے دعا کی کہ اے الہ العالمین، تو اس ارادے میں میری مد د کر، جو مشکل پیش آئے آسان ہو جائے، میری بات میں اثر دے اور میرے عزم میں استحکام۔
نصوح کو ایسی ٹھو کر نہیں لگی تھی کہ وہ اس کو بھول جاتا، تنبہ ہوئے پیچھے اسکو اپنی اصلاح دشوار نہ تھی مگر اصلاحِ خاندان ایک بڑا مشکل کام تھا۔ وہ بخوبی واقف تھا کہ دینداری اور خدا پرستی میرے خاندان کے لیے بالکل نئے الفاظ ہیں جن سے چھوٹے بڑے کسی کے کان آشنا نہیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ گھر بھر ایک طرف ہو گا اور میں اکیلا ایک طرف۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا اور میں ایک سورما چنا بن کر کیوں کر معصیت کے بھاڑ کو توڑ ڈالوں گا۔ پس وہ غور کرنے لگا کہ کس کو اپنا مددگار بنائے، کس کو صلاح کار قرار دے۔ آخر یہی دل میں آیا کہ صلاح کے لیے بی بی سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں اور خدا کو کچھ اس خاندان کی فلاح ہی منظور تھی کہ نصوح نے بی بی کو پڑھا لکھا بھی لیا تھا۔ جب نصوح کا نیا نیا بیاہ ہوا انہی دنوں تعلیمِ نسواں کا چرچا شروع ہوا تھا، نئی نئی کتابیں جو عور توں کے واسطے جاری ہوئی تھیں نصوح نے سب کو بہت شوق سے دیکھا تھا اور اسکا دل اس بات کو مان گیا تھا کہ عور توں کو لکھانے پڑھانے میں چند در چند فوائدِ دینی و دنیوی مضمر ہیں۔ چنانچہ اس نے بعض کتابوں میں سے بعض مقاماتِ دلچسپ بی بی کو پڑھ کر سنائے۔ بھلائی کی بات سبھی کو بھلی معلوم ہوتی ہے، بی بی نے بھی اس کو تسلیم کیا کہ عور توں کے لیے پڑھنا بہت مفید ہے۔ بال بچوں کا کچھ بکھیڑا نہ تھا، میاں سے پڑھنا شروع کیا تو چار پانچ مہینے میں اردو لکھنے پڑھنے لگی، تب سے اب تک تھوڑا مشغلہ چلا ہی جاتا تھا۔
نصوح کو اس وقت بی بی کا پڑھا ہوا ہونا بہت ہی غنیمت معلوم ہوا اور سمجھا کہ بی بی یوں ہی خدا کے فضل سے اسمِ با مسمٰی فہمیدہ ہے، اس کا سمجھ لینا تو چنداں دشوار نہیں۔ رہے بچے جن کی عمر چھوٹی ہے وہ بھی اصلاح پذیر ہیں۔ بڑی دقت تو بڑی عمر والوں کی ہے۔ ایک بیٹا، ایک بیٹی بیا ہے جا چکے تھے۔ سمجھا کہ دونوں اپنے اپنے گھر کے ہیں کسی پر میرا اختیار باقی نہیں اور ہو بھی تو جوان بیٹا، جوان بیٹی۔ مار میں نہیں سکتا، گھرک میں نہیں سکتا، نرا سمجھانا اور وہ بھی اس عمر میں بڈھے طوطوں کو پڑھانا ہے۔ آخر وہ کہیں گے نہیں کہ برے ہیں اور بے دین ہیں، تمھی نے ہم کو ایسا اٹھایا اور جب ہماری عادتیں راسخ اور خصلتیں طبیعت ہو گئیں تو اب ہم کو انکا ترک کرنا تعلیم کرتے ہو اور ہم کو ناحق ملزم بناتے ہو۔ یہ سوچنا تھا کہ نصوح کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے اور سمجھا کہ ان دو کی اصلاح محال ہے۔ اسکو زیادہ تر افسوس اس بات کا تھا کہ خدا کے فضل سے دونوں کے آگے اولاد ہے، جسطرح میری بدی نے میری اولاد میں اثر کیا، کیا انکی بدی انکی اولاد میں سرایت نہ کرے گی؟ مگر پھر بھی نصوح نے مصمم ارادہ کر لیا کہ انشاءاللہ اپنے مقدور بھر تو کوشش کروں گا۔ یا تو راہِ راست ہی پر آئیں گے یا جیتے جی چھوڑ دوں گا۔ جو خدا کا نہیں وہ میرا پہلے نہیں۔ منجھلے بیٹے اور منجھلی بیٹی کی طرف سے بھی نصوح کو خوب اطمینان نہ تھا اور جانتا تھا کہ ان کے ساتھ بھی دقت پڑے گی۔ لیکن اسکا ارادہ ایسا مستحکم تھا کہ کوئی مشکل اسکو روک نہیں سکتی اور وہ مضطرب اور مستعجل اس قدر تھا کہ چاہتا تھا کہ ہتھیلی پر سرسوں جما لوں۔ ابھی اچھی طرح بدن میں اٹھنے بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں آئی تھی کہ اس نے بی بی سے کہا۔ "تھوڑا سا پانی گرم کرا دو تو میں نہا لوں۔ ”
بیوی: "کیا غضب کرتے ہو، ہاتھ پاؤں میں ذرا دم تو آنے دو۔ نہانے کی ایسی کونسی ساعت ماری جاتی ہے۔ جب اصل خیر سے چلنے پھرنے لگو گے، خاصی طرح حمام میں جا کر غسل کرنا۔ ”
میاں۔ "میں نماز پڑھنی چاہتا ہوں، علالت میں طرح طرح کی بے احتیاطی ہوئی ہے، جی قبول نہیں کرتا کہ اسی حالت سے نیت باندھ لوں۔ ”
بیوی۔ "کیا اچھے ہونے کے نفل مانے تھے؟”
بیوی نے جو نماز سن کر ایسا تعجب ظاہر کیا تو نصوح پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور جی میں کہنے لگا کہ اللہ اللہ مجھ میں اور نماز میں اتنی دوری ہے کہ گھر والی بی بی سن کر تعجب کرتی ہے۔
وائے بر من، وائے بر انجامِ من
عار دارَد کفر بر اسلامِ من
اور ایک آہ سرد کھینچ کر بی بی سے کہا کہ میں نفلیں پڑھنے والا ہوتا تو بھلے ہی دن نہ ہوتے۔
بیوی۔ "منّت نہیں، نیاز نہیں تو پھر کیا جلدی ہے۔ نماز کہیں بھاگی نہیں جاتی۔ اچھی طرح تندرست ہو جاؤ گے تو بہتیری نمازیں پڑھ لینا۔ ”
اب نصوح وہ نصوح نہیں رہا تھا کہ بی بی کو ایسی بے وقعتی کے ساتھ نماز کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتا اور اسکو ناگوار نہ ہوتا۔ غصہ تو آیا مگر پھر اپنے جی میں سمجھا کہ بی بی کا کچھ قصور نہیں، جسکا شوہر بے دین ہو اس کے ایسے ہی خیالات ہونے چاہئیں۔ تمام تر میری ہی خطا ہے اور ایک میری بے دینی نے سارے گھر کو تباہ کر رکھا ہے۔ بی بی سے اس وقت رد و کد کرنا مناسب نہ سمجھ کر اتنا ہی کہا کہ افسوس میری ناکارہ صحبت نے تم کو کس قدر گمراہ کر دیا ہے، فرضِ خدا کو تم نے ایک سرسری کام سمجھ لیا۔
غرض بی بی کے منع کرتے کرتے نصوح نے غسل کر، کپڑے بدل، نماز پڑھی۔ آج نصوح کی یہ پہلی نماز تھی کہ اسکو داخلِ عبادت کہہ سکتے ہیں، وہ اسطرح ہاتھ باندھے ہوئے مؤدب کھڑا تھا جیسے کسی بادشاہ عالی جاہ کے روبرو کوئی خونی کھڑا ہوتا ہے۔ آنکھیں زمین میں سی ہوئی تھیں، ہیبتِ سلطانی اس پر ایسی چھا رہی تھی کہ نہ ہلتا تھا نہ جلتا تھا بس ایک بت کی طرح بے حس و حرکت کھڑا ہوا تھا، عاجزی اور فروتنی اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔ حکم کے مطابق کھڑا تھا لیکن جھک جھک جاتا تھا اور گر گر پڑتا تھا، غرض ایسی ایسی حرکتیں اس سے سر زد ہوتی تھیں کہ خواہ مخواہ دیکھنے والے کو رحم آئے۔
ہفتے عشرے تک علالت کا کسل رہا، پھر تو خدا کے فضل سے نصوح بدستور توانا و تندرست ہو گیا مگر بیماری کے بعد اسکی عادتیں اکثر بدل گئی تھیں، ہر وقت تو وہ کچھ سوچ میں رہتا تھا، بے ضرورت بکنا، بد تمیزی کے ساتھ ہنسنا، لا یعنی با توں میں شریک ہونا اس نے مطلقاً چھوڑ دیا تھا لیکن اس کے ساتھ لئینت، تواضع، وسعتِ اخلاق، انکسار، یہ صفتیں بھی اس میں آ گئی تھیں۔ بیماری سے پہلے اسکی بد مزاجی اس درجے کی تھی کہ گھر والے اس کو ہوا سمجھتے تھے، دروازے کے اندر اس نے قدم رکھا اور کیا چھوٹے بڑے سب پر ایک سہم چڑھا۔ اگر بھولے سے کوئی چیز بے موقع پڑی رہ گئی اور اس نے دیکھ پائی، سب پر ایک آفت توڑ ماری۔ کھانے میں، اٹکل ہی تو ہے، ذرا نمک زیادہ ہو گیا یا مٹھلونا رہ گیا، بس اسی روز جانو کہ گھر میں فاقہ ہوا۔ کتنے تو پیالے شہید ہوئے، کتنی رکابیوں کا خون ہوا، سارے محلے میں خبر ہوئی کہ آج کھانا بگڑا۔ بچوں کو بات بات میں جھڑکی، بات بات میں گھرکی، یا اب نصوح کے سر پر ڈھول بجاؤ، کچھ خبر نہیں بلکہ فہمیدہ بچوں کو شوخی کرتے دیکھ کر خفا ہوتی اور کہتی۔ "کیسے ناہموار بچے ہیں، باپ کا تو یہ حال ہے اور یہ انہی کے کان میں جا کر شور مچاتے ہیں، ذرا ڈر نہیں، دیکھو اکٹھی ہی کسر نکلے گی۔ ”
شروع میں نصوح کے یہ انداز دیکھ کر گھر والوں کو بڑا کھٹکا تھا، وہ جانتے تھے کہ بیماری سے اٹھے ہیں ضرور ہے کہ پہلے سے زیادہ نازک مزاج ہو گئے ہونگے، اس بلا کا غصہ چڑھا ہے کہ کسی سے بولتے ہی نہیں، دیکھیئے یہ قہر کس پر ٹوٹتا ہے، کس کی شامت آتی ہے۔ مگر نصوح نے ایسا جلاب نہیں لیا تھا کہ اس نے خون میں ذرا سی گرمی بھی لگی رہنے دی ہو۔ لوگ بیماری سے اٹھ کر چڑچڑے اور بد مزاج ہو جاتے ہیں اور نصوح حلیم اور بردبار، نرم دل اور خاکسار ہو کر اٹھا تھا۔ معاملاتِ روزمرہ میں اسکی یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ جو رکھ دیا سو چاؤ سے کھا لیا، جو دے دیا سو خوشی سے پہن لیا، نہ حجت نہ ت کرار نہ غل نہ غپاڑا۔ نصوح کی عادت بدلی تو لوگوں کی مدارت بھی اس کے ساتھ بدل چلی، جو پہلے ڈرتے تھے وہ اب اسکا ادب ملحوظ رکھتے۔ جن کو وحشت و نفرت تھی وہ اب اس کے ساتھ انس و محبت کرتے، تھوڑے ہی دنوں میں گھر شور و شغب سے پاک اور لڑائی جھگڑے سے صاف ہو گیا۔
ابتداءً نصوح کو نماز وغیرہ کا اہتمام کرتے دیکھ کر گھر والوں نے اچنبھا کیا تھا لیکن پھر تو بے کہے دوسروں پر خود بخود ایک اثر سا ہونے لگا اور نصوح اسی کا منتظر تھا کہ لوگ اس طرزِ اجنبی سے کسی قدر مانوس اور خوگر ہو لیں تو اپنا انتظام شروع کروں۔ نصوح کی جہاں اور عادتیں بدلی تھیں وہاں ایک یہ بھی تھی کہ وہ خلوت پسند ہو گیا تھا، تمام تمام دن اکیلا بالا خانے پر بیٹھا رہتا، بے بلائے اگر کوئی جاتا تو یہ بھی نہ تھا کہ اس سے بات چیت نہ کرے مگر حتی الوسع مجمع سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ بعض کو یہ خیال ہوتا تھا کہ شاید نیند بڑھ گئی ہے، کوئی یہ سمجھتا تھا کہ اترنے چڑھنے کی توانائی نہیں آئی مگر فہمیدہ کو اکثر جانے کا اتفاق ہوتا تھا، کبھی نماز پڑھتے دیکھا کبھی چپ بیٹھے ہوئے۔ آخر ایک روز پوچھا کہ "اکیلے چپ چاپ بیٹھے ہوئے تمھارا جی نہیں گھبراتا، تھوڑی دیر کو نیچے ہی اتر آیا کرو کہ بال بچوں کی با توں میں دل بہلے، مجھ کو گھر کے کام دھندے سے فرصت نہیں ملتی۔ ”
نصوح۔ "میں تم سے اس بات کی شکایت کرنے والا تھا کہ جب سے میں بیمار ہو کر اٹھا ہوں تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا، کیوں ہوا۔ کیا تم کو میری عادات میں فرق معلوم نہیں ہوتا؟”
فہمیدہ۔ "رات دن کا تفاوت، زمین و آسمان کا فرق اور پوچھنے کو تمھارے سر کی قسم کئی بار منہ تک بات آئی مگر تمھارا ڈھنگ دیکھ کر جرأت نہ ہوئی کہ پوچھوں۔ ”
نصوح۔ "ڈھنگ کیسا؟”
فہمیدہ۔ "برا ماننے کی بات نہیں، مزاج تمھارا سدا کا تیز ہے، یونہی سب لوگ تم سے ڈرتے رہتے ہیں، جب سے بیمار ہو کر اٹھے ہو سب کو خوف تھا کہ ایک تو کریلا دوسرے نیم چڑھا۔ پہلے ہی سے بلا کا غصہ ہے اب بیماری کے بعد کیا ٹھکانہ ہے۔ ادھر تم کو دیکھا تو کسی کی طرف ملتفت نہ پایا، سمجھے کہ ضرور طبیعت برہم اور مزاج نادرست ہے۔ پھر کس کی جرأت، کس کو اتنی ہمت جو پوچھے، دریافت کرے؟”
نصوح۔ "کیوں صاحب، کبھی تم نے مجھ کو میرے مزاج کی خرابی پر متنبہ نہ کیا؟”
فہمیدہ۔ "تنبیہ کرنا در کنار، بات کرنے کا تو یارا نہ تھا۔ ”
نصوح۔ "لیکن ان دنوں تو میں کسی پر نا خوش نہیں ہوا۔ ”
فہمیدہ۔ "گھر بھر کو اس کا تعجب ہے۔ ”
نصوح۔ "آخر لوگ اس کا کیا سبب قرار دیتے ہیں؟”
فہمیدہ۔ "لوگ یہ کہتے ہیں کہ وبا میں کثرت سے لوگوں کو مرتے دیکھا، اپنے گھر میں تین موتیں ہو گئیں، خود بیمار پڑے اور خدا کے گھر سے پھر کر آئے، دل میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔ تمھارے بڑے صاحبزادے یہ تجویز کرتے ہیں کہ ڈاکٹر نے جو اسہال بند کرنے کی دوا دی، دماغ میں گرمی چڑھ گئی ہے، بہر کیف سب کی یہی رائے ہے کہ علاج کرنا چاہیئے۔ ”
نصوح۔ "نہ گرمی ہے، نہ خللِ دماغ، خوف البتہ ہے۔ ”
فہمیدہ۔ "مرد ہو کر اتنے ڈر گئے، آخر ہم سب بھی تو اس آفت میں تھے۔ ”
نصوح۔ "تم ہر گز اس آفت میں نہ تھیں۔ ”
فہمیدہ۔ "یعنی یہ کہ میں نے ہیضہ نہیں کیا، لیکن تمھارا ہیضہ کرنا مجھ کو اپنے مرنے سے زیادہ شاق تھا۔”
نصوح۔ "نہیں ہیضہ کرنے کی بات نہیں، بیماری اگرچہ ظاہر میں سخت تھی مگر میں تم سے کہتا ہوں کہ شروع سے آخر تک میرے ہوش و حواس درست تھے۔ تمھاری ساری باتیں میں سنتا اور سمجھتا تھا۔ ابتدائے علالت میں جو تم لوگوں نے ہیضہ امتلائی تجویز کیا، پھر صبح کو حکیم صاحب تشریف لائے اور میری کیفیت تم نے ان سے بیان کی، پھر ڈاکٹر آئے اور انہوں نے دوا پلائی، مجھ کو سب خبر ہے۔ جب تم لوگوں نے ڈاکٹر کے کہنے سے مجھ کو علیحدہ دالان میں لٹایا تو مجھ کو غنودگی سی آ گئی اور میں نے اپنے تئیں دوسرے جہان میں دیکھا۔ ”
اس کے بعد نصوح نے خواب کا سارا ماجرا حرف بحرف بی بی سے بیان کیا، مردوں کی نسبت عور توں کے دلوں میں نرمی اور رقت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذہبی تعلیم عور توں میں جلد اثر کرتی ہے۔ فہمیدہ نے جو میاں کا خواب سنا، اس قدر خوف اس پر طاری ہوا کہ قریب تھا کہ غش آ جائے۔ نصوح اگرچہ تنہائی میں اپنے گناہوں پر تاسف کر کے ہر روز دو چار مرتبہ رو لیا کرتا تھا اور ظاہر میں نہیں بھی روتا تھا تو اندر سے اسکا دل ہر وقت روتا رہتا تھا، اب بی بی کی ہمدردی اور ہمدمی کا سہارا پا کر تو اتنا رویا کہ گھگھی بندھ گئی۔ فہمیدہ پہلے ہی خوفزدہ تھی، میاں کا رونا اس کے حق میں اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہوا، اس نے بھی بلبلا کر رونا شروع کر دیا۔ پھر تو میاں بی بی ایسا روئے کہ ساون بھادوں کا سماں بندھ گیا۔ وہ بھی ایک عجیب وقت تھا کہ دو میاں بی بی اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہے تھے۔
آخر نصوح نے اپنے تئیں سنبھالا اور بی بی سے کہا کہ دنیا میں اگر کوئی چیز رونے کے قابل ہے تو میرے نزدیک گناہ اور خدا کی نا فرمانی ہے اور بس، کیونکہ کوئی معصیت، کوئی آفت، گناہ سے بڑھ کر نہیں۔ دنیا کے نقصانوں پر رونا بے فائدہ دیدے کھونا ہے مگر گناہ پر رونا گویا داغِ الزام کو دھونا ہے۔ رونا کفارۂ معصیت ہے، رونا گنہگار کیلئے بہترین معذرت ہے، رونا رحمت کی دلیل اور مغفرت کا کفیل ہے۔ لیکن ہم کو اپنی آئندہ زندگی کا انتظام بھی کرنا ضرور ہے۔ ندامت وہی سند ہے کہ افعالِ ما بعد میں اسکا اثر ظاہر ہو۔ توبہ وہی پکی ہے کہ آدمی جو دل سے سوچے یا منہ سے کہے ویسا ہی کر دکھائے۔
فہمیدہ۔ "لیکن اتنی عمر اس خرابی میں بسر کی اب نجات اور مغفرت کی کیا امید ہے، میں تو جانتی ہونکہ ہمارا مرض علاج سے در گزرا۔ ”
نصوح۔ "خدا کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کفر ہے۔ وہ بڑا بے نیاز، بڑا غفور الرحیم ہے۔ کچھ اسکو ہماری عبادت کی پرواہ نہیں، اگر روئے زمین کے تمام آدمی اسکی نا فرمانی کریں تو اسکی ابدی اور دائمی سلطنت میں ایک سر مو برابر بھی فرق نہیں آئے گا اور اسطرح اگر تمام زمانہ فرشتہ سیرت ہو جائے اور عبادت ہی کرانی منظور ہوتی تو وہ نافرمان، گنہگار، سرکش، متمرو انسان کی جگہ فرشتے پیدا کرسکتا تھا۔ پھر یہ باتیں جو ہم پر فرض و واجب کی گئی ہیں ہماری ہی اصلاح و بہبود کیلئے اور اس میں شک نہیں کہ اس میں پرلے سرے کا رحم اور غایت درجے کا حلم ہے۔ لاکھ گناہ کرو، جہاں عجز و الحاح کیا، منت سماجت سے پیش آئے، بس پھر کچھ نہیں۔
اگر خشم گیر و بہ کردار زشت
چو باز آمدی ماجرا در نوشت
وہ معبود جابر نہیں، سخت گیر نہیں، کینہ ور نہیں۔ مگر ہے کیا کہ غیور بڑا ہے، اسکی مطلق برداشت نہیں کہ کس کو اسکا شریکِ خدائی گردانا جائے۔ ”
فہمیدہ۔ "کتنا ہی عفو و درگزر کیوں نہ ہو، مگر اپنے گناہوں کی بھی کچھ انتہا ہے۔ ماں باپ کو جیسی اولاد کی مامتا ہوتی ہے، ظاہر۔ مگر دیکھو کلیم کی حرکتوں سے میرا تمھارا دونوں کا جی آخر کھٹا ہو ہی گیا، کتنی برداشت، کہاں تک چشم پوشی؟”
نصوح۔ "خدا کی پاکیزہ اور کامل صفتوں کو آدمی کی ناقص و ناتمام عاد توں پر قیاس کرنا بڑی غلطی ہے۔ تمام دنیا کے ماں باپوں کو جو اولاد کی محبت ہے، وہ ایک کرشمہ ہے اس عنایتِ بے غایت اور لطف و شفقتِ بے منت کا جو خداوند کریم ہر حال میں اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔ گناہ اور نا فرمانی انسان کے خمیر میں ہے، اگر بندوں کے گناہ پر اسکی نطر ہوتی تو ہر متنفس کشتنی اور گردن زنی تھا، دنیا کا ہے کو بستی، لیکن اللہ رے در گزر، گناہ بھی ہو رہے ہیں اور رزق کا راتب جو سرکار سے بندھا ہوا ہے موقوف ہونا کیسا، کبھی ناغہ بھی تو نہیں ہوتا۔ سانس لینے کو ہوا تیار، پینے کا پانی موجود، آرام کرنے کو رات، کام کرنے کو دن، رہنے کو مکان، وہی چاند، وہی سورج، وہی آسمان، وہی زمین، وہی برسات، وہی فواکہہ و نباتات۔ جملہ اعضاء، ہاتھ پاؤں، آنکھ کان اپنی اپنی خدمت پر مستعد، نہ ماندگی، نہ کسل، نہ تکان۔ پس جبکہ خدا ایسے ایسے گناہ اور ایسی ایسی نا فرمانیوں پر نیکی سے نہیں چوکتا تو یہ بات اسکی ذات ستودہ صفات سے بہت ہی مستبعد معلوم ہوتی ہے کہ اسکی درگاہ میں معذرت کی جائے اور نہ بخشے، توبہ کی جائے اور قبول نہ کرے۔ ”
اسی وقت میاں بی بی دونوں نے دعا کے واسطے ہاتھ پھیلا دیے اور گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے اور ایک دوسرے کے گناہوں کی مغفرت چاہی۔ اس کے بعد فہمیدہ مسرت و اطمینان کی سی باتیں کرنے لگی مگر نصوح کی افسردہ دلی بدستور باقی تھی۔ تب فہمیدہ نے پوچھا کہ جب توبہ کرنے سے گناہوں کا معاف ہو جانا یقینی ہے اور آئندہ کے واسطے ہم عہد کرتے ہیں کہ پھر ایسا نہ کرینگے تو کیا وجہ ہے کہ تم اداس ہو؟
نصوح۔ "ایمان خوف و رجا کا نام ہے، توبہ کا قبول کیا جانا کچھ ہمارا استحقاق نہیں، خدائے تعالیٰ قبول کرے تو اسکی عنایت اور قبول نہ کرے تو ہم کو نہ گلہ ہے نہ محلِ شکایت۔ آئندہ کے عہد پر کیا بھروسا ہو سکتا ہے، انسان مخلوق ضعیف البنیان ہے، غفلت اسکی طینت ہے اور نا فرمانی اسکی طبیعت۔ خدا ہی توفیق خیر دے تو عہد کا نباہ اور وعدے کا ایفا ممکن ہے، ورنہ آدمی سے کیا ہو سکتا ہے۔
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہو گا
ہم کیا ہیں کہ کوئی کام ہم سے ہو گا
جو کچھ کہ ہوا، ہوا کرم سے تیرے
جو کچھ کہ ہو گا، تیرے کرم سے ہو گا
اور میری افسردگی کی ایک وجہ اور ہے کہ اسطرح اس سے میرا قلب مطمئن نہیں ہوتا۔ ”
فہمیدہ۔ "وہ کیا؟”
نصوح۔ "وہ یہ ہے کہ میں تو بگڑا ہی تھا، میں نے ان بچوں کو کیسا غارت کیا، میری دیکھا دیکھی یہ بھی گئے گزرے ہوئے۔ تم دیکھتی ہو کہ چھوٹے بڑے سب ایک رنگ میں ہیں، کسی کو بھی دینداری سے مس ہے؟ کوئی بھی خدا پرستی کی رغبت رکھتا ہے؟ اور رغبت ہو تو کہاں سے، نہ تو گھر میں دین و مذہب کا چرچا کہ خیر دوسروں کو دیکھ کر آدمی نصیحت پکڑے، نہ کوئی کہنے اور سمجھانے والا کہ نیک و بد کا امتیاز سکھائے بلکہ حق تو یہ ہے کہ میں انکی تباہی اور خرابی میں ہر طرح کی مد د کرتا رہا۔ افسوس کہ میں نے ان کے حق میں کانٹے بوئے، ان کے ساتھ دشمنی کرتا رہا اور جانا کہ میں انکی بہتری چاہتا ہوں۔ میں جو غور کرتا ہوں تو کھیل کود کی جتنی عادتیں خراب ہیں، حقیقت میں انکا بانی اور معلم میں ہوں۔ میں نے انکا جی بہلانے کو کھلونے اور کنکوّے لے دیے ہیں، میں انکو خوش کرنے کی نظر سے بازار ساتھ لے لے گیا۔ میں نے انکو دام دے دے کر بازاری سودوں کی چاٹ لگائی، مور پالنے میں نے انکو سکھائے، میلے تماشے انکو میں نے دکھائے، خوش وضعی، خوش لباسی کی لت انکو میں نے ڈلوائی۔ میں خود عیبِ مجسم کا ایک بڑا نمونہ ان کے پیشِ نظر تھا، جو جو کچھ یہ کرتے ہیں، ماں کے پیٹ سے لی کر نہیں آئے، مجھ سے سیکھا، میری تقلید کی۔ میں ہر گز اس نعمت کے لائق نہ تھا کہ مجھ کو بچوں کا باپ بنایا جائے، میں کسی طرح اس عنایت کے شایاں نہ تھا کہ مجھ کو ایک بھرے کنبے کی سرداری ملے۔ یہ بھی میرے نصیبوں کی شامت اور انکی بدقسمتی تھی کہ انکی پرداخت مجھ کو سپرد ہوئی۔ افسوس، سنِ تمیز کو پہنچنے سے پہلے یہ یتیم کیوں نہ ہو گئے۔ شیر خوارگی ہی میں میرا سایۂ زبوں ان کے سر پر سے کیوں نہیں اٹھا لیا گیا کہ دوسرا انکی تربیت کا متکفل ہوتا جو اپنی خدمت کو مجھ سے بدرجہا بہتر انجام دیتا۔ غضب ہے کہ یہ اشراف کے بچے کہلائیں اور پاجیوں کی عادتیں رکھیں۔ مجھ کو اب انکی شکل زہر معلوم ہوتی ہے، صورت، سیرت، ظاہر، باطن ایک سے ایک خراب، ایک سے ایک بد تر۔
ایک نابکار کو دیکھو کہ وہ ماش کے آٹے کی طرح ہر وقت اینٹھا ہی رہتا ہے، کبھی سینے پر نظر ہے کبھی بازؤوں پر نگاہ ہے، آدم زاد ہو کر لقّا کبوتر کا پٹھا بنا پھرتا ہے۔ اتنا اکڑتا ہے، اتنا اکڑتا ہے کہ گردن گدی میں جا لگی ہے۔ کپڑے ایسے چست کہ گویا بدن پر سیے گئے ہیں۔ چھاتی پر انگرکھے کے بند ہیں، گھٹنوں تک پائجامے کی چوڑیاں ہیں، ایک دیوالی برابر ٹوپی ہے کہ خود بہ خود گری پڑتی ہے۔ دوسرا ناہنجار، صبح اٹھا اور کبوتر کھول باپ دادے کا نام اچھالنے کو کوٹھے پر چڑھا، پہر سوا پہر دن چڑھے تک کوٹھے پر دھما چوکڑی مچائی، مارے باندھے مدرسے گیا، عصر کے بعد پھر کوٹھا ہے اور کنکوا ہے، شام ہوئی اور شطرنج بچھا۔ ا توار کو مدرسے سے چھٹی ملی تو بٹیریں لڑائیں۔ تیسرے نالائق، بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، محلّہ نالاں، ہمسائے عاجز، اس کو مار اس کو چھیڑ، چاروں طرف ایک تراہ تراہ مچ رہی ہے۔ غرض کچھ اسطرح کے بے سرے بچے ہیں، ناہموار، آوارہ، بے ادب، بے تمیز، بے حیا، بے غیرت، بے ہنر، بد مزاج، بد زبان، بد وضع کہ چند روز سے دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اترتا ہے۔ انکی حرکات و سکنات، نشست و برخاست کوئی بھی تو بھلے مانسوں کی سی نہیں۔ گالی دینے میں ان کو باک نہیں، فحش بکنے میں ان کو تامل نہیں، سم ان کا تکیہ کلام ہے، نہ زبان کو روک ہے نہ منہ کو لگام ہے۔ انکی چال ہی کچھ عجیب طرح کی اکھڑی اکھڑی ہے کہ بے تہذیبی انکی رفتار سے ظاہر ہے۔
رہیں لڑکیاں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان میں اسطرح کے عیوب نہ ہونگے جو لڑکوں میں ہیں، لیکن ساتھ ہی مجھ کو اسکا تیقن ہے کہ دیندارانہ زندگی تو کسی کی بھی نہیں۔ انکو بھی اکثر گڑیوں میں مصروف پاتا ہوں یا کنبے میں کوئی تقریب ہوتی ہے تو کپڑوں کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، لڑ کے گالیاں بہت بکتے ہیں، لڑکیاں کوسنے کثرت سے دیا کرتی ہیں۔ قسم کھانے میں جیسے وہ بیباک ہیں یہ بھی بے دھڑک ہیں، بہر کیف کیا لڑ کے کیا لڑکیاں، میرے نزدیک تو دونوں ایک ہی طرح کے ہیں۔ ان سب کی یہ تباہ حالت دیکھ کر میں زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہوں مگر پھر دیکھتا ہوں تو انکا کچھ بھی قصور نہیں، خطا اگر ہے تو میرا اور تمھاری، ان کے عیوب پر جھڑکنا اور ملامت کرنا کیسا، ہم نے کبھی انکو روکا تک بھی تو نہیں۔ ”
فہمیدہ۔ "تم تو باہر کے اٹھنے بیٹھنے والے ٹھہرے، اس میں تو میرا سراسر قصور ہے، بچے ابتداء میں ماؤں ہی سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں اور ماؤں ہی کی خو بو پکڑتے ہیں، بلکہ تم جب کبھی انکو نصیحت کرتے اور کسی بات پر گھرکتے تو میں الٹی انکی حمایت لیتی تھی، ان سب کو میں نے خراب کیا اور اسکا الزام بالکل میری گردن پر ہے۔ ”
نصوح۔ "بیشک تم نے بھی ان کی اصلاح میں کوشش نہیں کی لیکن پھر بھی میں باپ تھا، تم سے انکی پرورش متعلق تھی اور مجھ سے انکی صلاح و تہذیب۔ ”
فہمیدہ۔ "ہاں میں نے ان کے بدنوں کو پالا اور انکی روحوں کو تباہ اور ہلاک کیا، میری ہی بیہودہ محبت نے انکی عادتیں بگاڑیں۔ میرے ہی نا معقول لاڈ پیار نے ان کے مزاجوں کو گندہ، انکی طبیعتوں کو بے قابو بنایا۔ ”
نصوح۔ "لیکن اگر میں اپنے کام پر آمادہ سرگرم ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ میں کہوں اور نہ سنیں، میں چاہوں اور نہ کریں، آخر میں ان پر ضابطہ تھا، میں ان پر ہر طرح کی قدرت رکھتا تھا اور نہ صرف ان پر بلکہ تم پر اور سارے گھر پر۔ ”
فہمیدہ۔ "پھر بھی جس قدر برائیاں مجھ پر ظاہر ہوتی رہتی تھیں انکا شاید دسواں حصہ بھی تم پر منکشف نہ ہوتا ہو گا۔ جان بوجھ کر میری عقل پر پردہ پڑ گیا، دیکھتے بھالتے میں اندھی بنی رہی۔ اب بھی جو جو خرابیاں انکی میں جانتی ہوں تم کو معلوم نہیں۔ دیکھو لڑکیاں ہی ہیں کہ تم گڑیاں کھیلنے اور کپڑوں کا اہتمام کرنے کے سوا ان کے حالات سے محض بے خبر ہو، میں جانتی ہوں کہ ان کے مزاجوں میں کیا خرابیاں ہیں، انکی عاد توں میں کیسے بگاڑ ہیں۔ ”
نصوح۔ "پھر آخر کیا کرنا ہو گا۔ ”
فہمیدہ۔ "میرے گمان میں ان بچوں کی اصلاح تو اب ہمارے امکان سے خارج ہے۔ ”
نصوح۔ "البتہ ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہونے میں بھی کچھ شک نہیں۔ ”
فہمیدہ۔ "دشوار تم ہی کہو، آسمان میں تھگلی کا لگانا ممکن ہے اور انکی اصلاح ممکن نہیں، ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے مگر یہ درست ہونے والے نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کلیم ایک بات کے سو سو جواب دینے کو موجود ہے اور ایک کلیم پر کیا الزام ہے، جتنے بڑے وتنے کڑے، جتنے چھوٹے وتنے کھوٹے۔ ”
نصوح۔ "تو کیا انکو اسی گمراہی میں رہنے دیں کہ اور بدتر ہوں، انکو بہ اختیار خود چھوڑ دیں کہ پیٹ بھر کر خراب ہوں۔ ”
فہمیدہ۔ "بڈھے طوطوں کا پڑھانا، پکی لکڑی کا لچکانا تم سے ہو سکے تو بسم اللہ۔ کیا خدانخواستہ میں مانع و مزاحم ہوں، مگر میں ایسی انہونی کا بیڑا نہیں اٹھاتی، ایاز قدرِ خود بشناس۔ میں خود جانتی ہوں کہ بیٹوں کی نظروں میں میرا کتنا وقار ہے، بیٹیاں کتنا میرا ادب لحاظ کرتی ہیں، رشتے میں ماں ضرور ہوں مگر افتاد سے مجبور ہوں، کوئی میرے بس کا نہیں۔ ”
نصوح۔ "لیکن تم خود کہتی تھیں کہ بچوں کی اصلاح تم پر فرض تھی اور جب تک مادری و فرزندی تعلق باقی ہے وہ فرض تمھاری گردن پر لدا ہے۔ میں نے ایک دن بڑے سویرے نہیں معلوم کس بچے کو چاہا کہ باہر حکیم کو لے جا کر دکھا دوں، تم اس وقت اسکا منہ دھلانے کو اٹھیں، میں جلدی کرتا تھا اور تم کہتی تھیں کہ ذرا صبر کرو، منہ دھلا دوں، کرتا بدل دوں، اس حالت سے لے جاؤ گے تو حکیم صاحب کیا کہیں گے کہ گھر والی کیسی پھوہڑ ہے کہ بچوں کو ایسا نا صاف رکھتی ہے، بیشک وہ بات تمھاری بہت معقول تھی لیکن جب یہ تمھارے بچے گندی روح اور نا پاک دل لے کر خدا کے حضور میں جائیں گے تو کیا تم پھوہڑ نہیں بنو گی۔ وہاں یہ معذوری، یہ مجبوری کچھ نہیں سنی جائے گی۔ علاوہ اس کے، کیوں کر تمھاری محبت اقتضا کرتی ہے کہ تم اپنے فرزندوں کو مبتلائے مصیبت دیکھو اور انکو اس مصیبت سے نکالنے کی کچھ تدبیر نہ کرو، اس واسطے کہ وہ مصیبت ان پر بہت دنوں سے ہے اور میرے اور تمھارے سبب سے ہے۔ کیا مدت کے بیمار کو دوا نہیں دیتے، پرانے ناسوروں کا علاج نہیں کرتے؟ اولاد کی اصلاح ماں باپ پر فرض ہے، اگر اس فرض کو ہم نے غفلت اور بیوقوفی سے اب تک ادا نہیں کیا تو کیا ضرور ہے کہ آئندہ بھی معصیتِ ترکِ فرض میں گرفتار رہیں۔ ”
فہمیدہ۔ "کچھ مجھ کو انکار نہیں، گریز نہیں، نہ میں یہ کہتی ہونکہ بچوں کی اصلاح ہم پر فرض نہ تھی یا اب نہیں ہے، بلکہ مجھ کو انکی اصلاح سے یاسِ کلی ہے اور میں جانتی ہوں کہ انکی اصلاح و تہذیب اور تادیب و تعلیم میں کوشش فضول ہے، سعی عبث ہے، تدبیر بے سود، محنت رائگاں، بھلا کہیں ٹھنڈے لوہے بھی پیٹنے سے درست ہوئے ہیں۔ ”
نصوح۔ "آدھا، لیکن ہم پر اسی قدر لازم ہے کہ کوشش کریں اور نتیجے کا مرتب ہونا، اثر کا پیدا کر دینا ہمارا کام نہیں، یہ خدا کے اختیار میں ہے اور کون جانے کہ خدا ہمارے ارادے میں برکت، ہماری تدبیر میں تاثیر دے اور یہ درست ہو جائیں تو کیا تم کو مسرت نہ ہو گی۔ کوشش میں ناکام رہنا اور مطلقاً کوشش نہ کرنا، ان دو با توں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انجام دونوں کا ایک ہو مگر کوشش کرنا ہمارے لیے ایک وجہِ برأت ہے۔”
فہمیدہ۔ "اس بات کا فیصلہ میرے اور تمھارے درمیان میں ہونا ممکن نہیں، اس واسطے کہ میری حالت اور ہے، تمھاری حالت اور۔ اول تو بچوں پر تمھارا رعب داب ہے، تم سے پھر بھی ڈرتے ہیں اور میرے ساتھ تو سب کے سب اس قدر گستاخ ہیں کہ بیٹیاں تو خیر مجھ کو برابر کی سہیلی سمجھتی ہیں، بیٹے تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ یہ کون بلا ہے اور کیا بکتی ہے۔ دوسرے، تم کو اپنے بچوں کی یہ کیفیت بہ خوبی معلوم نہیں اور میں ان کے رگ و ریشے سے واقف ہوں۔ ”
نصوح۔ "یہ سب سچ ہے، لیکن تمھاری با توں کا خلاصہ یہ ہے کہ اب انکی اصلاح بڑا مشکل کام ہے۔ ”
فہمیدہ۔ "پھر تم نے بات کو بدلا، میں نے اپنے منہ سے مشکل ہر گز نہیں کہا، میں تو شروع سے ناممکن اور محال ہی کہے جاتی ہوں۔ ”
نصوح۔ "بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنی دیر سے میں تمھارے ساتھ بک رہا ہوں اور تم نہیں سمجھتیں۔ کیوں صاحب، ناممکن اور محال کیوں ہے؟”
فہمیدہ۔ "اگر تم کہو تو میں خاطر سے مان لوں لیکن چونکہ تم میری رائے پوچھتے ہو تو میں بیشک ناممکن اور محال ہی سمجھتی ہوں اور وجہ یہ ہے کہ انکی عادتیں راسخ ہوتے ہوتے طبیعت ہو گئی ہیں، برابر کے بیٹے، برابر کی بیٹیاں، مار ہم نہیں سکتے، گھرک ہم نہیں سکتے، جبر ہم نہیں کر سکتے، بھلا پھر ان عاد توں کو جن کے وہ مد توں سے خوگر ہیں، کیوں کر چھڑا دیں گے؟”
نصوح۔ "تو تمھارا مطلب یہ ہے کہ کوئی تدبیرِ کارگر سمجھ نہیں آتی اور جو سمجھ میں آتی ہے وہ کارگر نہیں معلوم ہوتی۔ ”
فہمیدہ۔ "وہ ایک ہی بات ہے۔ ”
نصوح۔ "اس سے مجھکو انکار نہیں کہ معمولی تدبیریں اب محض بے سود ہیں، مادہ سخت ہے تو جلاب بھی کوئی بڑا ہی کڑا دینا ہو گا، جو کام پہلے ایک بات سے نکلتا اب جوتی لات سے بھی نکلنے کی امید نہیں۔ ”
فہمیدہ۔ "لیکن اگر بچوں کے ساتھ تم اسطرح کی سختی بر تو گے تو تمام دنیا تھڑی تھڑی کریگی اور سختی سے بچوں کے دلوں میں دونی ضد اور نفرت پیدا ہو گی۔ ”
نصوح۔ "اگر میں یہ سمجھوں کہ میں اپنے ذمے ایک فرض ادا کرتا ہوں تو دنیا کے کہنے کی انشاءاللہ مجھکو مطلق پروا نہ ہو گی۔ لوگوں کو اختیار ہے جو چاہیں سمجھیں اور جو چاہیں سو کہیں لیکن سختی میرے نزدیک ایک تدبیرِ نامناسب ہے اور میں خوب سمجھتا ہونکہ بڑے لڑ کے کسی طرح سختی کی برداشت نہیں کر سکتے اور اگر ان کے ساتھ خشونت اور درشتی سے پیش آؤنگا تو الٹا اثر ہو گا اور جبکہ میں خود انکی خرابی کا باعث ہوا ہوں تو سختی کا میں سزاوار ہوں نہ کہ وہ۔ ”
فہمیدہ۔ "بھلا پھر سختی کرو گے نہیں اور نرمی سے کام نکلتا نہیں، اسی نرمی نے تو انکو اس ھڈرے تک پہنچایا تو آخر وہی بات ہوئی کہ ہونا ہوانا کچھ نہیں، ناحق کا دردِ سر ہے۔ ”
نصوح۔ "میں تو اس شعر پر عمل کرونگا،
درشتی و نرمی بہم در بہ ست
چو رگ زن کہ جراح و مرہم نہ ست
نرمی کی جگہ نرمی اور سختی کے محل پر سختی اور میرا دل گواہی دیتا ہے کہ انشاءاللہ میں اپنے ارادے میں کامیاب ہونگا، آخر آدمی کے بچے ہیں، بات کو سمجھتے ہیں، عقل رکھتے ہیں، جب ان ہی کے فائدے کی بات میں انسے کہونگا تو کب نہ سمجھیں گے اور سختی تو بس اسی قدر عمل میں لاؤنگا کہ یہ بات بخوبی ان کے ذہن نشین کر دونگا کہ جو میرے کہنے کا نہیں، میں اسکا اور وہ میرا شریکِ رنج و راحت نہیں، یہ کہونگا اور انشاءاللہ یہ کر دکھاؤنگا، مگر بے تمھاری مد د کے یہ ارادہ پورا نہیں ہو سکتا۔ ”
فہمیدہ۔ "میں دل و جان سے مد د کرنے کو موجود ہوں، میں جانتی ہوں کہ تم انہی کی بہتری کے واسطے کہتے اور کرتے ہو، اپنی اولاد کا فائدہ ہوتے ساتے اگر میں کوتاہی کروں تو ماں کا ہے کی ہوئی کوئی ڈائن ہوئی۔ ”
نصوح۔ "تم میرے شریکِ حال رہو تو مجھکو ہر طرح کی تقویت ہے، میں جانتا ہوں کہ بچے بات بات میں تمھارا آسرا، تمھارا سہارا پکڑتے ہیں، ہو میری بیوی مگر معاملاتِ خانہ داری میں میرے کل فیصلوں کی اپیل تمھارے یہاں ہوتی ہے، میں تم کو الزام نہیں دیتا، اس واسطے کہ تم سے زیادہ میں خود ملزم ہوں لیکن بچوں میں سے کس کو تم نے زیادہ پیار کیا وہی زیادہ خوار ہوا۔ ہر چند میں نے کوشش کی، کسی امرِ دینی کے واسطے نہیں بلکہ معمولی پڑھنے لکھنے کے واسطے مگر جب تک تمھاری تائید نہیں ہوئی ایک نہیں چلی۔”
فہمیدہ۔ "لیکن اب وہ کیفیت نہیں ہے، جب تک چھوٹے تھے مجھکو ماں سمجھتے تھے اور میں انکی فریاد سنتی تھی، حمایت کرتی تھی۔ اب ہر ایک اپنے دل کا بادشاہ ہے، لڑکوں سے تو کچھ تعلق ہی نہیں رہا، ہفتوں بات چیت کرنے کا اتفاق بھی نہیں ہوتا، پکارتی پکارتی رہ جاتی ہوں، منہ پھیر کر بھی نہیں دیکھتے، لڑکیاں البتہ کہاں جائیں اور کس کے پاس جائیں، گھر ہی میں بیٹھی کھیلا کرتی ہیں، میں گھر کے کام دھندے میں لگی رہی ہوں لیکن پھر بھی جب تک تمھارے نیک ارادے میں کہ خدا ان کو پورا کرے، مجھ سے مد د مل سکتی ہے تو تم دیکھ لینا، انشاءاللہ، اپنے مقدور بھر اٹھا نہ رکھوں گی۔ ”
نصوح۔ "بھلا چھوٹے چھوٹے بچوں کو سنبھال لو گی؟”
فہمیدہ۔ "انکا درست کر لینا کیا مشکل ہے، یہ تو موم کی ناک ہیں جدھر کو پھیر دو پھر گئے بلکہ شاید انکو منہ سے کہنے کی بھی ضرورت نہ ہو، بچوں کا قاعدہ ہے جیسا بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں خواہ مخواہ اسکی نقل کرنے لگتے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی حمیدہ نے مجھکو رلا رلا دیا ہے، کیا تو اسکی چھ برس کی بساط ہے مگر ماشاءاللہ میرے منہ میں خاک، مغز سے اتار کر بڑے بوڑھوں کی باتیں کرتی ہے۔ ”
نصوح۔ "کیا ہوا تھا؟”
ڈپٹی نذیر احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے