درد کا کاروبار، توبہ ھے

درد کا کاروبار، توبہ ھے
عشق سر پر سوار توبہ ھے
رات آنکھوں میں کٹ گئ ساری
آپ کا انتظار، توبہ ھے
تمکو ڈر ھے تمھیں بُھلا ہی نہ دیں
اے مرے غمگسار، توبہ ھے
عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟
پیار اور بار بار، توبہ ھے
صرف اتنا کہا، چلے جاو
اے کفایت شعار توبہ ھے
بے رُخی کا گلہ نہیں اچھا
جان تم پر نثار، توبہ ھے
وہ جو اپنا ھے وہ پرایا بھی؟
عشق کا کاروبار توبہ ھے
آنکھ میں خواب جھلملانے لگے
نیند کا یہ خمار توبہ ھے
ہر کہانی اسی پہ لکھی ھے
دل کا یہ ریگ زار، توبہ ھے
اللہ اللہ بتول دل کی لگی
دل لگی کا غبار، توبہ ھے
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے