تمہیں ایسا نہیں لگتا

تمہیں ایسا نہیں لگتا

سنو ہمدم ! تجھے مل کر
مرے احساس نے مجھ کو
نئے معنی سکھائے ہیں
تمہیں ایسا نہیں لگتا؟
کہ جیسے شام ڈھلنے پر
ہزاروں دیپ جلتے ہوں
کہ جیسے رُت بدلنے پر
سماں پہلو بدلتے ہوں
تمہیں ایسا نہیں لگتا ؟
کہ جیسے ہم نے لمحوں میں
کئی صدیاں بِتائی ہیں
بہت سی اَن کہی باتیں
خموشی سے سنائی ہیں
تمہیں ایسا نہیں لگتا؟
مدارِ زیست میں ہم تم
بہت مصروف رہتے ہیں
ہزاروں فرض ہیں تیرے
کئی مجبوریاں میری
مگر یہ ربط سے کیسا
ترے جیون کے لمحوں میں
مرا حصہ بناتا ہے
مرے احساس میں آ کر
ترا گوشہ جگاتا ہے
کئی لمحے چُراتا ہے
تمہیں ایسا نہیں لگتا؟
کہ اپنی ذات کے معنی
سبھی جذبات کے معنی
بدل جاتے ہیں پل بھر میں
ہم اپنے ہاتھ سے کیسے
نکل جاتے ہیں پل بھر میں
یہ پل بھر کی شناسائی
کہیں رگ رگ اُترتی ہے
کئی اَن دیکھے رنگوں سے
کوئی تصویر سجتی ہے
مرے جاناں ! مرے ہمدم
مجھے سچ سچ بتاؤ ناں !
تمہیں ایسا نہیں لگتا

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے