تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
تلاش دوست کو اک عمر چاہئے اے دوست
کہ ایک عمر ترا انتظار ہم نے کیا
تیرے خیال میں دل شادماں رہا برسوں
ترے حضور اسے سوگوار ہم نے کیا
یہ تشنگی ہے کے ان سے قریب رہ کر بھی
حفیظؔ یاد انہیں بار بار ہم نے کیا
حفیظ ہوشیارپوری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے