تلافی

تلافی
وہ ایک لمحہ کے لیے رُکا اور ایک مٹھی چاول ہوا میں اُچھالتے ہوئے لاپرواہی سے آگے بڑھ گیا۔ غار سے چلتے وقت اس نے اکیس مٹھی چاول ہوا میں اچھالنے کی رسم پوری کردی تھی۔ اور اکیس بار چاول کی شراب کی بوندیں دھرتی پر گرا دی تھیں۔ اب ان مردود سپاہیوں کی روحیں اس کا پیچھا نہ کرسکتی تھیں۔
چاندنی رات کے رینگتے مچلتے سایوں میں ناگا پہاڑیاں دشمن کی گھات میں کھڑے ہوئے جوانمردوں کی طرح اونچی نیچی ہوتی گئی تھیں۔ چاند بھی کوئی خونی معلوم ہوتا تھا۔ جیسے وہ خون سے رنگے ہوئے چہرے پر اِترا رہا ہو۔ ستارے بھی خونی تھے۔ انھوں نے بھی دشمنوں کے سر کاٹ لیے تھے۔ اس نے حقارت سے ان کی طرف دیکھا جیسے وہ انھیں بتا دینا چاہتا تھا کہ اکیس سپاہیوں کو تنہا موت کے گھاٹ اُتار کر اُس نے نئی مثال قائم کردی ہے۔
رات بھر وہ اس دو راہے والی غار میں گھات لگائے بیٹھا رہا تھا۔ اکیس کی اکیس لاشوں کو غار میں لے جاکر اس نے سب کے سر کاٹ ڈالے تھے۔ اور دن بھر وہ وہیں دبک کر بیٹھا رہا تھا۔
یہ پگ ڈنڈی اس کی جانی پہچانی تھی۔ رات بھر کے سفر کے بعد وہ صبح صبح اپنے گاؤں پہنچ جانا چاہتا تھا۔ ایک بار پھر اسے خدشہ سا محسوس ہوا، جیسے سپاہیوں کی روحیں چیختی ہوئی اس کا پیچھا کررہی ہوں۔ مردود روحیں۔ یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ وہ ایک لمحہ کے لیے رُکا اور چورنگاہوں سے پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے پہاڑ پر چڑھتا چلا گیا۔
اس کے کندھے پر نئے بانس کی نئی کانور تھی۔ جس کے دونوں پلڑوں میں خون آلودہ سر لٹکائے ہوئے تھے۔ اگلے پلڑے میں چاول کی ڈلیا رکھی ہوئی تھی جو نصف سے زیادہ خالی ہوچکی تھی۔ اس کے قریب چاول کی شراب کی مٹکی تھی جس میں مشکل سے ایک چوتھائی شراب باقی ہوگی۔ پچھلے پلڑے میں اکیس کی اکیس لاشوں سے کاٹی ہوئی ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں تھیں اور ساتھ ہی وہ کٹار بھی جس سے اس نے دشمنوں کو مار گرایا تھا اور ان کے سر کاٹ ڈالے تھے۔ دونوں پلڑوں میں ان سروں کو بہت قرینے سے لٹکایا گیا تھا۔ دونوں پلڑوں پر موٹی رسیوں کا جال تنا ہوا تھا۔ اور کسی چیز کے گرنے کا اندیشہ نہ ہوسکتا تھا۔
اسے یقین تھا کہ اسے اس بزدل، کمینے سپاہی کا سر بھی مل گیا ہے جو روہی کی بڑی بہن رین سالی کو زبردستی اُٹھا لے گیا تھا۔ روہی اسے دیکھ کر میری بہادری کا ترانہ چھیڑ دے گی۔ رین سالی بھی خوش ہوجائے گی۔ رین سالی خود روہی سے کہے گی۔ رشمو تو بہت بہادر نکلا روہی! اب تم اس کی دُلہن بن جاؤ۔۔۔ آخر اتنا بڑا بہادر روز روز تو پیدا نہیں ہوتا۔ اتنا بڑا بہادر جس نے ماں کے دودھ کی لاج رکھ لی۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے وہ پگ ڈنڈی کی ناہموار سطح پر تیز تیز قدم اُٹھاتا چلا جا رہا تھا۔
غار سے چلتے وقت اس نے چاول کی شراب کے کچھ گھونٹ حلق میں اُتار لیے تھے۔ ارے یہ تو مدھو ہے مدھو۔ آسامیوں کی طرح ایک ناگا بھی تو اسے ’’مدھو‘‘ کے نام سے پکارسکتا ہے۔ مٹکی میں مدھو چھلک رہا ہے جانے مدھو کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب راستے میں مدھو بالکل نہ پئے، گھر پہنچ کر پتوں کے ڈونے بھربھر کر روہی اور رین سالی کو پلائے۔۔۔ روہی کی آنکھوں میں نئی چمک آجائے گی رین سالی مست ہوجائے گی۔ دونوں بہنیں خوش ہوکر میری طرف دیکھیں گی۔ ایک اور بیس اکیس۔۔۔ پورے اکیس سر۔۔۔ روہی کہے گی، اب تو میں ضرور اپنے رشمو سے بیاہ کروں گی۔۔۔ مدھو روہی کو ایک نئی زبان دے گا۔ اور وہ کہے گی، رشمو میں ہمیشہ تمھاری تھی۔ اور ہمیشہ تمھاری رہوں گی۔
اسے اپنے بزرگوں کے اس عقیدے پر فخر تھا کہ جب تک ایک نوجوان کسی دشمن کا سر نہ کاٹ لائے اسے بہادر کا خطاب نہیں مل سکتا اور جب تک وہ کسی لڑکی کو یادگار فتح کے طور پر اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اُتارے ہوئے دشمن کا سر نہ دِکھا دے وہ اسے اپنا دولھا بنانے کا تصور تک نہیں کرسکتی۔
ادھر بہت برسوں سے یہ روایت نابود ہوتی جارہی تھی۔ کسی کا سر کاٹنے کا مطلب تھا پھانسی کی سزا لڑکیاں بھی سمجھ گئی تھیں۔ انسانی سر کی پیش کش کا سوال ہی نہ اُٹھتا تھا۔ ناگا کسان پرانے جمع شدہ سروں کی قبائلی ناچ کے موقع پر نمائش کو چھوڑتے تھے۔ لیکن جب سے برما کی سرحد پار کرتے ہوئے جاپانیوں نے ناگا پہاڑیوں کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا تھا، ناگا دوشیزاؤں نے پھر سے انسانی سر کی پیش کش کو بیاہ کے لیے لازمی شرط قرار دے دیا تھا۔
اس کے کان میں روہی کی آواز گونج اٹھی۔۔۔ رشمو، اور شمو، دھتکار ہے۔ تمھاری بہادری پر اگر تم اس پاپی کا سر کاٹ کر نہ لاسکو جو اس دن رین سالی کو زبردستی اُٹھا لے گیا تھا۔۔۔ اسے یاد تھا کہ کس طرح اس نے روہی کو ٹالنے کی کوشش کی تھی۔ ارے یہ تو بہت کٹھن شرط ہے، روہی۔ اب خاص طور پر اسی پاپی کا سر میں کہاں سے لاسکتا ہوں؟ ان سب کے دانت اونچے اونچے ہیں، ناک چپٹی، قد چھوٹا، کوئی لاکھ جتن کرے، روہی، ایک جیسے ہی تو معلوم ہوتے ہیں یہ سب لوگ۔اب خاص اس پاپی کا سر مجھے کہاں ملے گا۔۔۔؟ روہی کی آواز برابر گونجتی رہی رشمو میں کہے دیتی ہوں کہ میرا دولھا وہی بنے گا جو رین سالی کا بدلہ لے گا۔ تم تو دیکھ ہی رہے ہو، رشمو، کہ جب سے رین سالی اس پاپی سے اپنا ’’ست‘‘ لٹوا کر آئی ہے، وہ بالکل چپ چاپ رہتی ہے۔۔۔ رین سالی کی تصویر اس کی آنکھوں میں پھر گئی۔ ایک حواس باختہ لڑکی۔ شاید وہ دشمن کی چھاؤنی سے بھاگ کر آئی تھی۔
اب تو میں یقیناً کامیاب ہوچکا ہوں، اس نے سوچا، اکیس کے اکیس سپاہیوں کو مار گرانا ہر کسی کے بس کا روگ تو نہیں ہوسکتا۔ چلتے چلتے اس نے پیچھے مڑکر دیکھا مکمل خاموشی تھی۔
ہر ناگا یہی سوچتاتھا کہ جب سے سر کاٹنا قانوناً ممنوع قرار دے دیا گیا ہے زمین کی گرمی کم ہوگئی ہے اور اسی لیے زمین کی پیداوار بھی گھٹ گئی ہے۔ لیکن جنگ چھڑتے ہی زمین کی گرمی پھر سے بڑھنے لگ گئی تھی۔ اب تو معلوم ہوتا تھا کہ یہ گرمی صدیوں تک قائم رہے گی۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ اچانک اس کے کندھے سے کسی نے کانور کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔۔۔ روہی کی آواز اس کے ذہن میں پھر سے گونج اُٹھی۔ اس پاپی کی روح تیری غلام ہوگئی ہے، رشمو! اب وہ خود تیری کانور اُٹھا کر چلے گی۔ تیرے ساتھ ساتھ۔۔۔
ایک نہ دو نہ تین،پورے اکیس سر یعنی نو کم تیس۔ ارے میں نے نو کم تیس سر کاٹ ڈالے۔ ارے یہ بچوں کا کھیل تھوڑا ہے، روہی۔۔۔ اپنے ذہن میں وہ ناگا دوشیزہ سے کہہ رہاتھا۔ ارے روہی، جس نے شیر کے بچّے کی طرح شیرنی کا دودھ پیا ہو، وہی تو اکیس سروں کو کانور کے دونوں پلڑوں میں لٹکا کر تیز قدموں سے چل سکتا ہے۔
پہلے تو چاندنی رات کبھی اتنی خاموش نظر نہ آتی تھی۔ سائے پگھلتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ پہاڑیاں ستاروں سے بھرے ہوئے آسمان میں دھنسی جاتی تھیں۔ یہ پہاڑیاں پہلے تو کبھی اتنی پُراسرار نظر نہ آئی تھیں۔
اسے خون کی بُوآرہی تھی۔ یہ بُو تو آئے گی ہی، اس نے دل و دماغ کو سمجھایا، اسے کون ہٹائے۔ اُس نے اپنے خون آلودہ ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں رشمو ہوں رشمو، سر کاٹنے والے بزرگوں کا بیٹا۔
اُس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس کا پاؤں ایک جگہ لانبی لانبی گھاس میں دھنس گیا۔ اُسے خیال آیا کہ کس طرح وہ گاؤں چھوڑتے ہوئے روہی سے کہہ کر آیا تھا ارے دیکھنا، روہی، اب کپڑا بننے کی غلطی نہ کر بیٹھنا ورنہ تیرا رشمو جنگل میں چلتے چلتے کسی بیل میں پیر اُلجھ کر گرنے سے مرجائے گا۔ جب میں لوٹ آؤں تو خوشی سے کپڑا بننا۔۔۔ اس نے اپنے پاؤں کو آگے اُٹھاتے ہوئے سوچا۔ ارے یہ تو گھاس ہے بیل تو نہیں۔ میرا پاؤں کیسے اُلجھ سکتا ہے۔۔۔؟ اور پھر اس کے ذہن میں روہی کا بول گونج اُٹھا۔۔۔ میں کیوں کپڑا بنوں گی۔ رشمو، میں اتنی پاگل تھوڑی ہوں؟
گھر سے چلتے وقت اسے ہرگز یہ امید نہ تھی کہ اتنی جلد کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب ہوجائے گا۔ کندھے پر کانور کا بوجھ اسے پھر سے محسوس ہونے لگا۔ اسے خیال آیا چلو اچھّا ہی ہوا کہ باقی بدکرداروں کی طرح اس پاپی مردود کی روح بھی پیچھے رہ گئی۔ اور تیز تیز قدم اُٹھانے لگا۔
اور پرستاروں میں اسے روہی مسکراتی ہوئی نظر آئی۔ چاند اب پھیکا معلوم ہوتا تھا۔ پھیکے چاند پر روہی کا چہرہ ابھر آیا۔ جیسے وہ اسے پکار کر کہہ رہی ہو۔ حسن رین سالی کا دماغ روہی کا۔ رشمو، حسن کے تو سو بیری ہیں، دیکھو رین سالی کا کیا حال ہوا وہ لشکری پاپی اسے پکڑ کر لے گیا تھا، رشمو۔ جانے کس طرح پاپی نے رین سالی کا ’’ست‘‘ ناش کیا ہوگا میں تو کانپ اُٹھتی ہوں۔ رین سالی تو پھر بھی بچ کر نکل آئی۔ ورنہ ان کے نیچے سے کب کوئی ناگا لڑکی کان یا ناک کٹوائے بغیر واپس آئی ہے؟
اس نے کانور میں لٹکائے ہوئے سروں کی طرف دیکھا۔ اسے یقین تھا کہ ان میں اس پاپی کا سر بھی ضرور موجود ہوگا۔ دوبارہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔ لیکن روہی کا چہرہ چاند کے داغوں میں تحلیل ہوچکا تھا۔ بڑی نفرت سے اُس نے اپنے چاروں طرف دیکھا اور مستقل مزاجی سے پاؤں بڑھائے وہ روہی سے ملنے کے لیے بیتاب ہو رہا تھا۔
روہی کا خیال آتے ہی اسے فوراً اپنے بزرگوں کا خیال آگیا۔ اس کا باپ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلتا بنا۔ اس کا دادا البتہ بہادر نکلا تھا۔ اس نے سات سر کاٹنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ساتوں کے ساتوں سر ابھی تک ان کے گھر میں موجود تھے۔ تین سر ایک طرف، تین سر ایک طرف۔ بیچ میں وہ سر جو اس نے اپنی دلہن کو پیش کیا تھا۔ یہ سات سر اس کے دادا نے پچاس برس کے عرصے میں حاصل کیے تھے۔ اور یہاں یک بارگی اکیس سر کاٹ لیے گئے تھے۔
ابھی کوئی دس گھنٹے کا سفر باقی تھا۔ سائے اور بھی گہرے ہوگئے تھے۔ ان سایوں میں ہمیشہ مرے ہوؤں کی روحیں بھٹکتی ہیں۔ وہ جن کے سر کاٹ لیے گئے۔ وہ ڈر گیا۔ جیسے اکیس کی اکیس روحیں چیخیں مار رہی ہوں۔ اسے خیال آیا کہ ہو نہ ہو اس پاپی مردود کی روح باقی روحوں کو اس کے خلاف بھڑکا رہی ہے۔ جیسے اب سب روحیں اس کے خلاف سازش کررہی ہوں۔ اس نے کانور زمین پر رکھ دی۔ ڈلیا سے ایک مٹھی چاول ہوا میں اُچھال دیا۔ مٹکی سے تھوڑا مدھو زمین پر گرایا۔ اسے اب روحوں کا شور کم ہوتا سنائی دیا۔ جیسے ہوا میں ایک خاموش نغمہ تھرک رہا ہو۔
کانور اُٹھا کر وہ تیز تیز قدم اُٹھانے لگا۔ اب وہ ایک ایسی جگہ گزر رہا تھا، جہاں ہوا پھولوں کی خوشبو سے سست رفتار ہوگئی تھی۔ یہاں کیسے کیسے پھول کھلے ہیں۔ اس نے سوچا، دن کا وقت ہوتا اور روہی بھی ساتھ ہوتی تو وہ مل کر پھول چُنتے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے ہار پروتا اور روہی کے جسم پر ان کا ایک جال سا بُن دیتا۔
مٹکی میں مدھو چھلک رہا تھا۔ زمین پر مدھو کی بوندیں بہت ٹپکائی جاچکیں۔ روحوں کو بھی مدھو پیارا ہے۔ اس نے ذرا رُک کر مدھو کے کچھ گھونٹ حلق میں اُتار لیے۔
ستارے اسے گھور رہے تھے۔ لیکن اس نے ان پر ایک باغیانہ نگاہ دوڑائی جیسے وہ انھیں خاطر میں نہ لاتا ہو۔
معاً اسے اس کہانی کا دھیان آیا جو پہلے پہل اسے روہی نے سنائی تھی۔ یہ اس وقت کی کہانی تھی جب سورج چاند تھا۔ اور چاند سورج۔ دنیا ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔ اس وقت چاند سورج سے زیادہ گرم تھا۔ رات کو بھی اتنی گرمی پڑتی کہ جنگل جھلس جاتا اور انسان بھی پناہ مانگتے نظر آتے۔ پھر ایک دن چاند نے جواب سورج ہے، سورج سے جواب چاند ہے۔ کہاکہ بھائی تم تو بہت ظالم ہو۔ اس طرح دنیا کیسے قائم رہ سکتی ہے۔ اب میں تمھیں سورج نہ رہنے دوں گا۔ وہ جھٹ سورج بن گیا۔ اور سورج کو چاند بنانے کی غرض سے اس کے چہرے پر گوبر مل دیا۔ اس نے روہی سے سنا تھا کہ چاند پر جو داغ نظر آتے ہیں۔ اسی گوبر کے داغ ہیں۔ لیکن وہ خود بھی تو روہی کا منہ چڑایا کرتا تھا۔ اور ہمیشہ کہا کرتا تھا۔ کہ یہ کہانی تو بہت بڑی گپ ہے۔ کبھی وہ اسے چھیڑنے کے لیے یہ بھی کہہ دیتا کہ لاؤ میں بھی تمھارے چہرے پر گوبر مل دوں۔ اور روہی جھٹ بول اٹھتی۔۔۔ رہنے بھی دو، پہلے ہی میں کون سی خوبصورت ہوں؟
اسے یاد آیا کہ کس طرح ایک روز اس نے روہی سے کہا تھا کہ شروع دنیا میں چاند اور سورج دونوں دن کے وقت نکلا کرتے تھے۔ سورج کو ایک لڑکی سے محبت تھی۔ وہ بولی، پہلے کسی کا سر کاٹ کر لاؤ۔ پھر میں تمھارے ساتھ بیاہ کروں گی۔ چاند کو کسی طرح پتہ چل گیا۔ کہ سورج اسی کا سر کاٹ ڈالنے پر آمادہ ہورہا ہے۔ چاند بھاگ گیا اور دن کے بجائے رات کو چڑھنے لگا۔
اس نے چاند کی طرف محبت سے دیکھا۔ اور چاند پر روہی کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن اسے ذرا کامیابی نہ ہوئی۔
پگ ڈنڈی اب پہاڑ کے اوپر اوپر جارہی تھی۔ چلتے چلتے وہ مدھو کا نغمہ اَلاپنے لگا۔ مدھو کا ازلی و ابدی نغمہ،
لال لال خون بہتا ہے تو بہنے دو۔
ہڈیاں بھی ٹوٹنے ہی کے لیے بنائی گئی ہیں۔
خون بہنے ہی کے لیے پیدا ہوتا ہے۔
مدھو پی کر سر کاٹنے کا مزہ ہے۔
گاؤ گانے والو، مل کر گاؤ۔
ناچو ناچنے والو، مل کر ناچو۔
مل کر ہی گانے، ناچنے کا مزہ ہے۔
مدھو پی کر سر کاٹنے کامزہ ہے۔
کوکھ جلی کیا لوری دے گی؟
بزدل کیا کھا کر لڑے گا؟
بزدل کو کون دُلہن پسند کرے گی؟
مدھو پی کر سر کاٹنے کا مزہ ہے۔
بھیڑوں اور بھیڑیوں کی کیسی دوستی؟
پڑے پڑے تو لوہے کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔
موت سے پہلے مرنے سے کیا فائدہ؟
مدھو پی کر سر کاٹنے کا مزہ ہے۔
اسے بڑی شدت سے مدھو پینے کا خیال آیا۔ مٹکی میں مدھو چھلک رہا تھا۔ لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہا۔ اب یہ مدھو گھر پہنچ کر ہی پیا جائے۔۔۔ روہی اور رین سالی کے ساتھ!
آخر کب تک ایک نوجوان مورنگ میں سوتا رہے؟ اس نے سوچا، آخر کب تک، بیس اور ایک اکیس۔ اکیس سر۔ اب روہی کیسے انکار کرسکتی ہے؟ اب بس اس کی ہاں چاہیے۔ پھر اس کے دام اس کے ماں باپ کو چکا دینا کچھ کٹھن نہیں۔
نہیں، اب میں مورنگ میں سوکر راتیں نہیں گزار سکتا۔ اس نے سوچا، مورنگ! مجھے مورنگ سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ رات گاؤں بھر کے بن بیاہے لڑکے مجھے مورنگ میں سوتے ہیں۔ ایک ہی جھونپڑے میں مل کر سونے کی رسم نہ جانے کتنی پرانی ہوگی۔ اس جھونپڑے کو مورنگ کا پیارا نام دے کر ہمیں خوش کرنے کا جتن کیا گیا ہے۔ اس کے ذہن کے کسی کونے سے روہی کی آواز آرہی تھی۔۔۔ رشمو، اور شمو۔ ہم نیا گھر بنائیں گے، ہم اچھا دھان اُگانے والے وانگسی دیوتا کی جے منائیں گے!
ایک بار پھر خون کی بُو اُسے شدت سے محسوس ہونے لگی۔ ارے ارے یہ بدمعاش روحیں تو مجھے کسی کھڈ میں گرا کر دم لیں گی۔۔۔ یہ کمینی، بدکار روحیں! وہ کانور چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا تھا۔ وہ کانور رکھ کر بیٹھ گیا۔
اپنی کلائی پر بندھی ہوئی کوڑی کو چھوتے ہوئے اس نے سوچا، کوئی ڈر نہیں ان روحوں سے بچانے کے لیے تو یہ ایک کوڑی ہی کافی ہے۔ گانٹھ سے کھول کر اس نے پیاز کو چھوا اور اپنے دل کو مضبوط کرلیا۔ پیاز کے جادو پر اسے یقین تھا۔
جاؤ جاؤ، اور بدکردار روحو، اس نے چلاّ کر کہا، اسی غار میں جاؤ جہاں تمھارے جسم پڑے ہیں۔ ایک رین سالی کا کیوں، میں نے تو سینکڑوں لڑکیوں کا بدلہ لیا ہے۔ تمھارے کالے پاپوں کا بدلہ۔ جاؤ جاؤ تمھارے سر اب تمھیں نہیں مل سکتے۔۔۔ اسے یقین تھا کہ آخر خون نے اپنا اثر دکھایا۔ وہ انتقامی خون جو اسے ورثہ میں ملا تھا۔۔۔
کانور اُٹھا کر وہ پھر اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ روحیں پیچھے ہٹ گئیں تھیں۔
ناپاک روحیں۔ اس نے تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے زور کا قہقہہ لگایا۔ قہقہہ، جو ہتھوڑے کی چوٹ کا حکم رکھتا تھا۔ بدکردار روحیں! اب وہ میرا پیچھا نہیں کرسکتیں اس نے کانور کے پلڑوں میں پڑے ہوئے سروں کی طرف دیکھا اور روہی کے خیال میں کھو گیا۔ اس نے بدلہ لے لیا۔ رین سالی کا بدلہ اور پھر وہ اور سوچنے لگا کہ روہی کہے گی۔ اور شمو، میری آواز میں تو سو سو گیت گھلے ہوئے ہیں۔ گویا اسے روہی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔ سوسو گیت کیوں نہ گھلے ہوئے ہوں تمھاری آواز میں روہی۔۔۔ وہ بولا اری جب تو بچی تھی تو پہلے پہل ماں نے تجھے بلبل کا گوشت کھلایا ہوگا۔۔۔ تو کیا میں سچ مچ بلبل کی طرح چہکتی ہوں، رشمو۔۔۔؟ اور پھر یکبارگی جیسے بہت سی چیخیں فضا میں گونج اُٹھی ہوں جیسے روہی کی جادو بھری آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس شور میں گھل مل گئی ہو۔
تاروں کی بھیگی بھیگی چھاؤں ختم ہوتی گئی۔ وہ پگڈنڈی پر چڑھتا چلا گیا۔ ابھی سورج نکلنے میں دیر تھی۔ اس نے سوچا رین سالی اسی طرح اپنی جھونپڑی کے قریب چٹان پر بیٹھی ہوگی۔ ابھی تک اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں چمک پیدا نہ ہوئی ہوگی۔ جب سے جان چھڑا کر واپس آئی ہے، وہ کسی سے بات بھی نہیں کرتی۔ مجھے دیکھ کر وہ خوش ہوجائے گی۔ میں اس کے دشمن کا سر اس کے قدموں میں رکھ دوں گا۔
اسے پگڈنڈی پر غصّہ آنے لگا۔ ابھی اور کتنے موڑ آئیں گے۔ اسے خیال آیا کہ شاید ان سروں میں اس مردود کا سر نہ نکلے۔ یک بیک کانور بوجھل ہوگئی۔ وہ تھک چکا تھا۔
اُوپر کو اُٹھتی ہوئی پگڈنڈی پھر نیچے اُترنے لگی۔ وہ رُکا نہیں۔ اگلے موڑ سے پگڈنڈی پھر اُوپر کو چڑھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں رین سالی کی ساکت و جامد نگاہیں پھرگئیں۔ کیا اب اس کی نگاہیں ہمیشہ ساکت وجامد نظر آئیں گی؟
اب وہ اس اونچی چٹان کے قریب پہنچ چکا تھا جس کے اس پار روہی اور رین سالی کی جھونپڑی تھی۔ اسے یقین تھا کہ روہی اسے دیکھ کر بھاگی چلی آئے گی اور کہے گی۔۔۔ رشمو، میرا رشمو، سروں کا شکاری رشمو! تیزتیز قدم اُٹھاتا ہوا وہ چلا جا رہا تھا۔ پورب میں سورج نکل آیا تھا۔ وہ چٹان بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ اور اب روہی اور رین سالی کی جھونپڑی نظر آرہی تھی۔
رین سالی سورج کی طرف منہ کیے بیٹھی تھی، جیسے وہ اس ٹھِگنی سے چٹان کی شہزادی ہو۔ سورج کی پہلی کرنیں اس کے غمزدہ چہرے پر سونے کا پانی پھیر رہی تھیں۔ روہی اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے یوں کھڑی تھی، جیسے وہ اس کی کالی کالی آنکھوں میں حسن کی نئی کروٹوں کا منظر دیکھنا چاہتی ہو۔
یونہی رشمو نزدیک پہنچا روہی نے دوڑ کر اس کا استقبال کیا۔ سورج کی پہلی کرنوں میں کانور کے پلڑے چمک اُٹھے تھے۔
سر، اتنے سر، وہ بولی، رشمو، میرا بہادر رشمو!
رین سالی اسی طرح اس ٹھگنی چٹان پر بیٹھی رہی جیسے اسے رشمو سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔ رشمو نے کانور اُتار کر چٹان کے قریب روہی کے قدموں میں رکھ دی۔
سورج کی کرنیں رین سالی کے جسم پر پھیل رہی تھیں۔ جنگلی کیلے کے بیجوں کی مالا اس نے نہ جانے کہاں اُتار پھینکی تھی۔ اب تو اس کے بازوؤں میں کہنیوں سے اوپر جست کے بازو بند بھی نظر نہ آتے تھے۔ دونوں بہنوں کے جسم پر صرف وہی ایک کپڑا تھا جو کمر سے گھٹنوں تک لٹک رہا تھا۔ ادھر جب سے رین سالی کا ’’ست‘‘ لٹ چکا تھا اس نے اپنے جسم کی طرف کچھ توجہ ہی نہ دی تھی۔ روہی نے بھی مناسب نہ سمجھا تھا کہ اپنے جسم کو تیل سے چمکائے۔ اب اسے اپنے بازوبند دیکھ کر شرم محسوس ہوئی۔ جنگلی کیلے کے بیجوں کی مالا بھی اسے بدصورت معلوم ہونے لگی۔ روہی جلدی جلدی کانور کے دونوں پلڑوں سے رسیوں کا جال کھول رہی تھی۔ خوشی خوشی، ایک سر نکال کر اس نے رین سالی سے پوچھا۔۔۔ ’’کہیں یہی تو اس پاپی کا سر نہیں، رین سالی؟‘‘
رین سالی کچھ نہ بولی۔ روہی نے خود کہا۔۔۔ ’’یہ اس کا سر نہیں ہوسکتا۔۔۔‘‘ ایک لمحہ کے لیے اس کی نگاہیں اس پر گڑگئیں۔ پھر اس نے آہستہ سے اسے ایک طرف زمین پر رکھ دیا۔
رشمو خاموش کھڑا روہی اور رین سالی کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا۔
دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں، ان میں روہی کو وہ سر کہیں نظر نہ آیا۔ رین سالی کی ساکت و جامد نگاہوں میں زندگی کے آثار پیدا ہوتے نظر نہ آتے تھے۔
رشمو نے اکھڑی اکھڑی آواز میں کہا، ’’تو گھبراؤ مت، رین سالی، میں پھر جاؤں گا میں ہزاربار جاؤں گا۔ کوئی پروا نہیں، میں نے بھی ماں کا دودھ پیا ہے۔ میں اپنے خون کی پکار سن سکتا ہوں۔‘‘
روہی کانور سے سر نکال نکال کر بڑے غور سے دیکھتی جاتی تھی۔ بولی۔ ’’کیا ان میں وہ سر نہیں ملے گا؟ رشمو، تجھے پھر جانا ہوگا۔ تجھے تو انکار نہ ہوگا۔ لیکن کیا میں تیری جان پھر جوکھوں میں ڈالوں گی؟‘‘
پھر ایک سر نکال کر وہ دیر تک اسے دیکھتی رہی۔ جیسے یہ اسی مردود کا سر ہو۔ اس نے کئی بار رین سالی سے پوچھا۔ وہ حیران تھی کہ اس مردود کی پہچان رین سالی کو اتنی جلدی کیسے بھول گئی۔
رین سالی کے چہرے پر پیلاہٹ کی تہ موٹی ہوتی جاتی تھی۔ آنکھوں میں مُردنی چھا رہی تھی۔ لب ساکت تھے، جیسے وہ پتّھر سے تراشی گئی ہو۔
رشمو نے ایک بار پھر اسی اکھڑی اکھڑی آواز میں کہا۔۔۔ ’’رین سالی، میں پھر جاؤں گا۔ میں ہزار بار جاؤں گا۔‘‘
روہی نے نیا سر نکالتے ہوئے چمک کر کہا۔۔۔ ’’یہ بھی نہیں تو اور نکالتی ہوں ابھی تو کئی سر باقی ہیں۔‘‘
روہی نے ایک ایک کرکے کئی سر نکالے۔ لیکن وہ مایوس ہوتی گئی۔۔۔ فضا میں خون کی بُو سما گئی۔ انسانی سروں کا ڈھیر بہت بھیانک معلوم ہوتا تھا۔ وہ سب جذبات جو عین مرتے وقت ان لوگوں کے دل و دماغ کو چھوگئے ہوں گے اب ان کے چہروں پر ساکت و جامد نظر آتے تھے۔
روہی مایوس ہوکر قریب ہی دوسری چٹان پر جا بیٹھی۔ رین سالی اپنی جگہ سے ذرا نہ ہلی۔
رشمو نے دیکھا کہ ابھی کانور میں تین چار سر اور پڑے ہیں۔ وہ کانور کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے ایک سر نکال کر رین سالی کو دِکھایا اور پوچھا۔۔۔ ’’یہ تو نہیں۔۔۔؟‘‘ ایک لمحہ کے لیے وہ اسے گھورتی رہی اور پھر ڈھیر اس نے اسے پر پھینک دیا۔
اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ پھر جانا ہوگا۔ ایک بار نہیں سو بار ہزار بار۔ ڈرتے ڈرتے اس نے آخری سر نکالا۔ اسے دیکھتے ہی رین سالی اُٹھ کر کھڑی ہوگئی اس وقت اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ جیسے اس کے ذہن میں سب یاد تازہ ہورہی ہو۔ رین سالی نے آگے بڑھ کر یہ سر رشمو کے ہاتھ سے لے لیا۔ وہ اسے غور سے دیکھتی رہی۔ معاً اس نے اس پر تھوک کر اسے زمین پر پھینک دیا۔
رشمو نے خوشی سے چلاّکر کہا۔ ’’ارے یہی تھا وہ کمینہ؟‘‘ اسے تو میں نے سب سے پہلے مارا تھا۔ باقی بیس تو میں نے بعد میں دبوچے تھے۔ اس کے کوٹ پر ایک تمغہ بھی تھا۔‘‘
گانٹھ کھول کر رشمو نے وہ تمغہ رین سالی کو دِکھایا۔ یک لخت رین سالی کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ اس نے ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے غرور سے سر اٹھایا، ایک لمحہ کے لیے کٹے ہوئے سر کی طرف غور سے دیکھا اور وہ پوری طاقت سے چلاّئی، ’’بزدل!‘‘
روہی بُت کی طرح خاموش کھڑی تھی۔ دوسرے لمحے میں اس نے دیکھا کہ زمین پر پڑے ہوئے سر کو رین سالی نے زور سے ٹھوکر ماری اور وہ لڑھکتا ہوا پرے کھڈ میں جارہا تھا۔ رین سالی کے زرد چہرے پر مسرت ناچ رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے اس کی کھوئی ہوئی دوشیزگی واپس مل گئی۔
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے