تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں

تتلیاں نیند کی پہلے تو اڑائی جائیں
پھر ہمیں خوابوں کی تعبیریں بتائی جائیں
حوصلوں کی لیے پتوار لڑے موجوں سے
کشتیاں ایسی سمندر میں چلائی جائیں
درد نے دل پہ مرے پھر سے لگائی دستک
اس کی راہیں سبھی پھولوں سے سجائی جائیں
لکھ گئے میر تقی میرؔ سخنور غالبؔ
گیت غزلیں وہ زمانہ کو سنائی جائیں
کر دے رسوا جو ہمیں سب کی نظر میں جیوتیؔ
باتیں کہتی ہوں وہ خود سے بھی چھپائی جائیں
جیوتی آزاد

तितलियाँ नींद की पहले तो उड़ाई जाएँ

फिर हमें ख़्वाबों की ताबीरें बताई जाएँ

हौसलों की लिए पतवार लड़े मौजों से

कश्तियाँ ऐसी समुंदर में चलाई जाएँ

दर्द ने दिल पे मिरे फिर से लगाई दस्तक

उस की राहें सभी फूलों से सजाई जाएँ

लिख गए मीर-तक़ी-‘मीर’ सुख़नवर ‘ग़ालिब’

गीत ग़ज़लें वो ज़माने को सुनाई जाएँ

कर दे रुस्वा जो हमें सब की नज़र में ‘ज्योति’

बातें कहती हूँ वो ख़ुद से भी छुपाई जाएँ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے