تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو

تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
دلنشیں موسم ہے جیسے دھوپ میں برسات ہو
ہے یہی بوندوں کی کوشش میری کھڑکی توڑ دیں
جس طرح ہو درد میرا ، اور ان کی گھات ہو
کیوں تذبذب میں رہو ،اپناؤ یا پھر چھوڑ دو
کیفیت جیسی بھی ہو، آؤ اس پر بات ہو
یوں دھندلکے میں ہوا محسوس، میرے ہاتھ کو
اتفاقاً چھو گیا جو وہ تمہارا ہات ہو
پھر سروتے نے سپاری ،ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر
پان میں رکھ دی ہے جیسے کوئی رسمی بات ہو
جیت سکتی ہوں میں آسانی سے بازی پیار کی
میرے دل کو ضد ہے لیکن، ہار جاؤں، مات ہو
دن کے روشن دان سے ، جھانکے اجالا گرم گرم
تیل بھی کم ہو دیئے میں اور ٹھنڈی رات ہو
کھینچ لاتا ہے کوئی چہرہ بھی نیناں میں دھنک
کیوں مرتب پھر نہ رنگوں کی یہاں بہتات ہو
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے