تشنگی خلق جب ہوئی ہو گی

تشنگی خلق جب ہوئی ہو گی
میرے سینے سے آ لگی ہو گی
چپ نے رستہ دیا تھا شورش کو
بات کرنے سے خامشی ہو گی
یہ جو دل میں جنوں کا لشکر ہے
آپ آئیں تو رہبری ہو گی
ہجر کی بات بھی بری نہ لگی
لحن _ داؤد میں کہی ہو گی
بجھ گئے ہیں چراغ؟ بجھنے دے !
رقص کر رقص، روشنی ہو گی
آپ کو کیا خبر محبت کی
ہونے والوں کو ہو گئی ہو گی
ایک آواز _تشنگاں اب تک
دور صحرا سے آ رہی ہو گی
موت غم کا علاج ہے لیکن
یہ سہولت بھی عارضی ہو گی
عشق پانی پہ چل رہا ہو گا
عقل کشتی بنا رہی ہو گی
یہ جو چہرے پہ تازگی ہے اسد
کوئی تازہ غزل ہوئی ہو گی
ڈاکٹر اسد نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے