تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں
نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں
عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں
وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں
میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ
ترے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں
کہ تیری رہ تو نہیں ایک ایک رستے سے
میں تیرا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں
قدم قدم پہ یہاں بے بہار برگد ہیں
میں راہِ دشت میں سایہ تلاش کرتا ہوں
میں یاد کر کے زمانہ ابھی بھی کیمپس کا
ترے وصال کا لمحہ تلاش کرتا ہوں
وہ دکھ ملے ہیں مجھے گلستان سے ساحل
میں اپنے واسطے صحرا تلاش کرتا ہوں
ساحل سلہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے