ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا

ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا
خواہش کا لرز جانا اسباب کا ڈر جانا
آکاش کے ماتھے پہ جادو کا سبب یہ ہے
تاروں کا چمک جانا چندا کا نکھر جانا
آ تجھ کو بتا دوں میں اچھی سی غزل کیا ہے
افکار کے سانچے میں لفظوں کا اتر جانا
اقرار محبت کی نازک سی دلیلیں ہیں
آنکھوں میں چمک آنا زلفوں کا سنور جانا
بے ربط دلیلیں ہیں اس شوخ کی باتوں میں
کچھ دیر تلک کہنا پھر کہہ کے مکر جانا
دنیا جسے کہتی ہے وہ نیل کمل تم ہو
ہر جھیل کو جچتا ہے ترا کھل کے ابھر جانا
تو میری ضرورت ہے عالمؔ یہی کہتا ہے
اس بات کا مطلب ہے ترے بن مرا مر جانا
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے