تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں

تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں
جو کھو گئے ہیں یارب اوسان وہ کہاں ہیں

آنکھوں میں روتے روتے نم بھی نہیں ہے اب تو
تھے موجزن جو پہلے طوفان وہ کہاں ہیں

کچھ اور ڈھب کے اب تو ہم لوگ دیکھتے ہیں
پہلے جو اے ظفرؔ تھے انسان وہ کہاں ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے