تھکن کے ساتھ اسی راستے میں رہنے دے

تھکن کے ساتھ اسی راستے میں رہنے دے

ندیمؔ مجھ کو ابھی حوصلے میں رہنے دے

میں زندگی سے ابھی اور لڑنا چاہتا ہوں

مرا وجود ابھی حادثے میں رہنے دے

میں منزلوں سے نہیں راستوں سے ہوں مانوس

تو مجھ کو بھٹکے ہوئے قافلے میں رہنے دے

میں جانتا ہوں مجھے تو بھلا چکا ہے مگر

کہیں کہیں تو مجھے حافظے میں رہنے دے

مجھے خبر ہے کہ نقصان میں نہیں ہوں میں

میں جانتا ہوں مجھے فائدے میں رہنے دے

میں اس کہانی کا کردار تو رہا ہی نہیں

مگر کہیں تو مجھے واقعے میں رہنے دے

سفر بھی ختم ہوا زندگی بھی ختم ہوئی

اور اب سکوں سے مجھے مقبرے میں رہنے دے

کتابِ عشق مکمل تو ہو چکی ہے ندیمؔ

پر انتساب ابھی مشورے میں رہنے دے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے