تھک گئے ہیں ہم تیرے روز کے ستانے سے

تھک گئے ہیں ہم تیرے روز کے ستانے سے
توڑ دے تعلّق کو اس طرح نبھانے سے
اب کے ہم گئے تو پھر لوٹ کر نہ آئیں گے
باز آ ہمیں تُو ہر وقت آزمانے سے
لہر بد گمانی کی پھر کوئی جکڑ لے گی
پھر وہ روٹھ جائے گا، فائدہ منانے سے؟
پوچھتے ہو کیا میرا شغلِ شامِ تنہائی؟
ملتی ہی نہیں فرصت اشکِ غم بہانے سے
ہر طرف فضاؤں میں ایک ہی فسانہ ہے
کیا ملا ہواؤں کو راز داں بنانے سے
کیوں سُلگتی رہتی ہو غم میں اے مری ناہید
تیرگی نہیں مٹتی خود کو یوں جلانے سے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے