تھا شوق بہت مجھ کو رشتوں کی مسافت کا

تھا شوق بہت مجھ کو رشتوں کی مسافت کا
ہے بوجھ مرے دل پر صدیوں کی مسافت کا
چلتے ہوئے سب راہی پیروں سے کُچلتے ہیں
احساس کسے ہو گا پھولوں کی مسافت کا
رستے ہیں یہاں سارے نفرت کے محبت کے
میں ایک مسافر ہوں جذبوں کی مسافت کا
اس جسم کے کمرے میں اک درد ٹھہرتا ہے
جب سلسلہ رُکتا ہے اشکوں کی مسافت کا
سوچا ہے یہیں اِ س کو اب روک دیا جائے
مقصد ہی نہیں کوئی سانسوں کی مسافت کا
اک درد کے صحرا میں گھر میں نے بسایا ہے
ہے شاذؔیہی حاصل خوابوں کی مسافت کا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے