تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے

تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
جو مرے دل کی یہ حویلی ہے
دل کی باتیں میں جس سے کرتی ہوں
خامشی میری وہ سہیلی ہے
کیا مجھے جان پائے تُو کہ تری
پھیکی احساس کی ہتھیلی ہے
میری ہستی بھی اک معمّہ ہے
ذات تیری بھی اک پہیلی ہے
زندگی کہتے ہیں جسے ناہید
ہم نے بن زندگی کے جھیلی ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے