Tery Dil Mein Bhi Hain

ترے دل میں بھی ہیں کدورتیں ترے لب پہ بھی ہیں شکایتیں
مرے دوستوں کی نوازشیں مرے دشمنوں کی عنایتیں

یہ ہے طرفہ صورت دوستی کہ نگاہ دل ہمہ برف ہیں
نہ وہ بادہ ہے نہ وہ ظرف ہیں نہ وہ حرف ہیں نہ حکایتیں

یہی ربط و ضبط غم و الم تری رائے میں کبھی خوب تھے
وہ یہی تو میرے عیوب تھے جنہیں دی گئی تھیں رعایتیں

ترے آستاں سے کشاں کشاں لئے جا رہی ہیں کہاں کہاں
مرے ناصحوں کی ہدایتیں ترے واعظوں کی روایتیں

ترا نام لیتے ہی اے خدا میں صنم کدے سے نکل چکا
رہیں کاش تا در مصطفی مری رہنما تری آیتیں

حفیظ جالندھری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے