ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا
مری نیند اور مرا خواب کیوں نہیں ٹوٹتا
ترا ذکر کرتا ہوں صبح و شام نماز میں
یہ طلسم اجر و ثواب کیوں نہیں ٹوٹتا
مرے خد و خال بکھرتے کیوں نہیں راہ میں
ترے آئینے کا سراب کیوں نہیں ٹوٹتا
ترے لفظ لفظ کی منتظر ہیں سماعتیں
لب حسن تیرا حجاب کیوں نہیں ٹوٹتا
کڑے موسموں کا ہدف ہوں میں تو قمر رضاؔ
مری شاخ پر سے گلاب کیوں نہیں ٹوٹتا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے