ٹیری سیاس، یونانی ادب کا ایک دلچسپ کردار

ٹیری سیاس، یونانی ادب کا ایک دلچسپ کردار
ٹیری سیاس یونانی دیومالا کا ایک پراسرار کردار ہے جو کئی ادبی تحریروں میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ٹیری سیاس یونانی متھالوجی کے مطابق ایک اندھا غیب دان تھا جو بیک وقت مذکر اور مونث خصوصیات کا حامل تھا۔ مشہور یونانی شہر تھیبز میں اس کو اپالو دیوتا کا نائب مانا جاتا ہے۔ اس کا باپ چرواہا اور ماں ایک پری تھی۔ ٹیری سیاس کی سب سے مشہور آمدسوفوکلیز کے شہرہ آفاق المیہ ڈرامے ایڈیپس ریکس میں ہوتی ہے جہاں وہ تھیبز کے بادشاہ ایڈیپس ریکس کے کیے ہوئے دو گناہوں باپ کا قتل اور ماں سے شادی کا پردہ چاک کرکے بادشاہ کو جلاوطنی پر مجبور کر دیتا ہے۔
یونان کے اندھے شاعر ہومر کی مشہور زمانہ رزمیہ نظم اوڈیسی میں ٹیری سیاس پاتال میں رہتا ہے۔ ٹیری سیاس رزمیہ کے ہیرو اوڈیسس کے زیرِ زمین سفر کے دوران اس کے راہنمائی کرتا ہے اور اس کو ہدایات بھی جاری کرتا ہے لیکن ہیرواس کی ہدایات پر عمل نہیں کرتا جس کا خمیازہ یوں بھگتتا ہے کہ اس کے مویشی زیوس دیوتاکا نوالہ بن جاتے ہیں۔
ٹیری سیاس کا نسوانی روپ میں بدل جانا بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایک روز وہ ایک جنگل میں سے گزر رہا تھا جہاں اُس نے دو سانپوں کا ملاپ دیکھ لیا۔ اُ ن کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے ٹیری سیاس نے اُن پر اپنے ڈنڈے کا وار کیا۔مادہ سانپ اسی وقت مر گیا جس سے ٹیری سیاس کو دیوتا نے عورت نے بنا دیا۔ سات برسوں بعد اس نے دوبارہ دو سانپوں کا ملاپ دیکھا۔ اس مرتبہ اس نے نر سانپ کو مار دیا جس کی پاداش میں دیوتا نے ٹیری سیاس کو عورت سے مردانہ روپ میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح اس کو دونوں اصناف کی زندگی گزارنے کو تجربہ حاصل ہوا۔ اسی تجربے کی بنا پر دیوی ہیرا اور دیوتا زیوس نے ٹیری سیاس کو ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔اس سے دونوں نے سوال کیا کہ ملن سمے عورت زیادہ محظوظ ہوتی ہے یا مرد۔ جب ٹیری سیاس نے جواب دیا کہ مرد کا لطف عنایت زیادہ ہوتا ہے اس نسبت سے جتنا کہ وہ عورت سے حاصل کرتا ہے۔ یہ سننا تھا کہ دیوی ہیرا نے اس کو اندھا کر دیا۔ بصارت چھن جانے پر دیوتا نے اس کی تلافی کے طور پر ٹیری سیاس کو بصیرت عطا کردی۔ اب وہ آنکھیں نہ ہونے کے باوجود باطن اور مستقبل تک کو دیکھ سکتا تھا۔
اس طرح اس نے اپنی عمرِ طویل کا ایک بڑا اندھیرے میں یعنی اندھے پن میں گزارا۔ ایک اور روایت کے مطابق اُس کے اندھا ہونے کی وجہ درحقیقت زیوس دیوتا کی بیٹی ایتھینا کو نہاتے ہوئے دیکھنا تھا۔ ایتھینا جو خود بھی یونانیوں کے نزدیک ایک دیوی تھی نے اُس کو اس خطا کی بنا پر اُسی وقت آنکھوں میں پانی کی پھوار ڈال کر اندھا کر دیا۔ ایک پری کورکلو وہاں سے گزر رہی تھی جس کو نابینا ٹیری سیاس دیکھ کر افسوس ہوا اور اُس پر ترس آیا۔ اُس پری نے دیوی ایتھینا سے التجا کی کہ وہ ٹیری سیاس کی بینائی واپس لوٹا دے۔لیکن اب ایتھینا کے بس میں نہیں تھا کہ وہ نابینا کو بینائی لوٹا سکتی۔ اُس کی آنکھوں کی تلافی کرنے کے لیے اس نے اندھے ٹیری سیاس کو اندر کی روشنی یعنی غیب دانی کی صلاحیت عطا کردی۔ اب ٹیری سیاس پرندوں کے پروں کے پھڑپھڑانے سے مستقبل کا پتہ دے سکتا تھا۔
ٹیری سیاس کی موجودگی یونانی المیہ ڈرانے اور رزمیہ شاعری کے لیے اہمیت کی باعث ہے۔ اس کو دلچسپ کردار کو ادب کے قارئین ہمیشہ انتہائی دلچسپی سے پڑھتے آئے ہیں۔

وقاراحمد ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے