تری یاد میں رہے دل مرا بے قرار کب تک

تری یاد میں رہے دل مرا بے قرار کب تک
مری منزلوں کی رہ میں تری رہ گزار کب تک
ترے وعدے پر کروں میں بھلا اعتبار کب تک
’’تری بات کا بھروسا ترا انتظار کب تک‘‘
نہ کوئی رفیقِ غم ہے، نہ ہی کوئی راز داں ہے
مرا چارہ گر رہے گا مرا قلبِ زار کب تک
مری عمر کٹ گئی پر ترا غم ٹلا نہیں ہے
مری روح پر رہے گا یہ سیہ غبار کب تک
مجھے دکھ تو ہے یقیناً ترا ساتھ چھوٹنے پر
تری نام کی رفاقت کے میں سہتی وار کب تک
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے