تری اداسی مرے دکھ رقم نہیں ہیں دوست

تری اداسی مرے دکھ رقم نہیں ہیں دوست
ہمارے ہجر کے قصے میں ہم نہیں ہیں دوست
نظر کا دائرہ پیروں تلک ہی رہ جائے
ہم اپنے بوجھ سے اتنے بھی خم نہیں ہیں دوست
تمام دن مرا اشعار میں گزرتا ہے
اگرچہ گھر میں کبوتر بھی کم نہیں ہیں دوست
وہ دوسروں کے غم۔دل میں دخل دیتے ہیں
جو اپنی اپنی اداسی میں ضم نہیں ہیں دوست
تری خوشی کی ہمیں بھی خوشی تو ہے لیکن
ہماری آنکھیں مسرت سے نم نہیں ہیں دوست
ہم اپنے آپ کو جتنا بھی بے بہا سمجھیں
ترے جمال کی قیمت کے ہم نہیں ہیں دوست
طرح طرح کے الم ہیں مری کفالت میں
مجھ ایک شخص کو دو چار غم نہیں ہیں دوست
کئی بجھے ہوئے ملتے ہیں صبح سے پہلے
چراغ اتنے بھی ثابت قدم نہیں ہیں دوست
کبیر شاعری جس کا تقاضا کرتی ہے
ہم اس کے آدھے بھی اس کو بہم نہیں ہیں دوست
ڈاکٹر کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے