تری مٹی میں مل سکتے ہیں

تری مٹی میں مل سکتے ہیں تجھ سا ہو نہیں سکتے
جو تیری آنکھ سے آنکھیں ملائیں سو نہیں سکتے
تمہارے بعد ایسا کیا ہوا ہم کو خدا جانے
کہ اب ہم چاہ کر بھی دوستوں کے ہو نہیں سکتے
کوئی رشتہ نہیں رکھتے کوئی وعدہ نہیں کرتے
یہ بستے بوجھ بن جاتے ہیں اور ہم ڈھو نہیں سکتے
ہمیشہ ڈر سا رہتا ہے کہیں پھندا نہ بن جائیں
تری بانہوں کی چادر میں زیادہ سو نہیں سکتے
یہاں جنگل میں کوئی مور ہم تک آبھی جائے تو
ہم اب کی بار اپنا آپ شاید کھو نہیں سکتے
خوشی کے ساتھ اس نے بات کرنی ہے بچھڑنے کی
سو ہم تو آخری جملے سے پہلے رو نہیں سکتے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے