ترے قابل جو ہم سمجھے تو اپنا دل اُٹھا لائے

ترے قابل جو ہم سمجھے تو اپنا دل اُٹھا لائے
مگر تم ہم سے کہتے ہو کہ لائےبھی تو کیا لائے

یہاں چہرہ شناسی ہے سراسر آنکھ کا دھوکہ
جو من میں جھانک لیتا ہو کوئی وہ آئینہ لائے

سبھی کنگن، جواہر ریشم و اطلس پہ نازاں تھے
تری خاطر فقط ہم تھے جو بس دستِ دعا لائے

تھما کر بے ثباتی پھر ہمیں دنیا میں لا پھینکا
بلا کر پاس پھر کہتے ہو کہ دنیا سے کیا لائے

عجب یخ بستگی ہے جو کِھلے چہروں کو جھلسائے
کوئی مہر و محبت کی کہیں سے کچھ ہوا لائے

یہی تقسیم کرنے میں بڑی فیاض ہے دنیا
عدو تھوڑا، بہت سا دکھ مرے اپنے اُٹھا لائے

کوئی گر از رہِِ احوال ہم سے پوچھ ہی بیٹھا
بریدہ شاخ پر لکھا ہوا قصہ اٹھا لائے

مجھے درکار ہے دلشاد اک پہچان اپنی بھی
خودی پیدا ہو وہ مجھ میں کہ جو میرا پتہ لائے

دلشاد احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے