تیرے ہونے کی قسم تیرا گزر۔ جانا۔ بھی کیا

تیرے ہونے کی قسم تیرا گزر۔ جانا۔ بھی کیا
بے طلب ہونا بھی کیا میرا سدھر جانا بھی کیا
پھینکنا زور سے پتھر کسی اونچائی سے کیوں
میرا چپ چاپ سا کھائی میں اتر جانا بھی کیا
جانے کیا سوچ کے بھرنا کسی خواہش کا سبو
گھونٹ بھرلینا عجب ڈوب کےمر جانا بھی کیا
زندگی نوچی ہوئی پھینکی گئی اترن۔۔ ہے
ایسی پوشاک پہننے سے مکر جانا۔ بھی کیا
تیری بانہوں میں سمٹنا ہے عجب کار_ عبث
اور خوشبو کیطرح تجھ میں بکھر جانا بھی کیا
گل_ امید کا آنکھوں۔ میں مہکنا ہے۔ سراب
ایک لحظے میں کسی زخم کا بھر جانا ںھی کیا
تیری چوکھٹ پہ پڑے رہنا مجھے فخر نہیں
میری حالت کا ترے حسن کے سر جانا بھی کیا
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے