تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی

تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی

تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی

میں نے اے شخص تجھے جینا سکھایا تھا کبھی

آخر اک روز مجھے تجھ سے نکلنا تھا کہ میں

وہم کی طرح ترے ذہن میں آیا تھا کبھی

مہ جبیں یاد دلایا تری پیشانی نے

میں نے بھی ایک چراغ اپنا جلایا تھا کبھی

تجھ سے تعبیر نہیں مانگی مگر یاد تو کر

تو نے ان آنکھوں کو اک خواب دکھایا تھا کبھی

اب لہو تھوک رہا ہے وہ تری فرقت میں

جس نے محفل میں تری رنگ جمایا تھا کبھی

تو جنہیں کاٹ رہا ہے بڑی بے دردی سے

انہی ہاتھوں سے تجھے میں نے بنایا تھا کبھی

بس اسی جرم نے گریہ میں مجھے رکھا ندیمؔ

میں نے اک شخص کو جی بھر کے ہنسایا تھا کبھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے