ترےؐ در سے محبت ہے یہی میرا اثاثہ ہے

ترےؐ در سے محبت ہے یہی میرا اثاثہ ہے
تریؐ الفت شفاعت کے اصولوں کا خلاصہ ہے
عطاکردیں زیارت کا مجھے آقاؐ اب اک جلوہ
بڑا بے چین اب میری ان آنکھوں کا یہ کاسا ہے
نہیں یوں تو کوئی نیکی مری ناقص کمائی میں
نبیؐ کے در کا نوکر ہوں میرا اک یہ ہی خاصہ ہے
طلب اس دل کو دنیا کی نہیں کوئی بھی اب باقی
تیرے حسن ملاحت کی جھلک کا بس یہ پیاسا ہے
نمازیں جس سے مولا کو کرے راضی ہر اک عشق
بچاکر جس نے لا کر دِیں محمدؐ کا نواسہ ہے
غموں سے جاں نکلتی ہے مگر خالد مرے دل کو
ترے اسم مقدسؐ کے وظیفے سے دلاسا ہے

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے