تیرے چہرے کی تلاوت کی ہے

تیرے چہرے کی تلاوت کی ہے
رات جاگی ہوں عبادت کی ہے
عشق کرتا نہیں کوئی ایسے
جس طرح تجھ سے عقیدت کی ہے
واسطہ تجھ سے ہی رکھا میں نے
اور دنیا سے بغاوت کی ہے
جان کر ذخم کوئی کھاتا نہیں
بات جو ہے یہاں قسمت کی ہے
حیثیت اپنی بڑھائی میں نے
ایک تم سے جو محبت کی ہے
ساتواں آسماں ہلنے لگا ہے
اس کے ہونٹوں نے جو حرکت کی ہے
آپ کیوں مجھ کو بڑا مانتے ہیں
میں نے تو آپ کی بیعت کی ہے
خواب رکھیں ہیں سرہانے اس کے
اس طرح اس کی زیارت کی ہے
آگ نے تھام لیا ہاتھ مرا
دشت میں پھول نے وحشت کی ہے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے