ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا
کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا
مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی
سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا
مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے
کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا
مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی اور میں
کوئی ایک مہرہ ادھرادھر نہیں کر سکا
کئی پیکروں کو مرے خیال نے شکل دی
جنہیں رونما مرا کوزہ گر نہیں کر سکا
مرے آس پاس کی مفلسی مری معذرت
ترا انتظام میں اپنے گھر نہیں کر سکا
اظہر فراغ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے