تیرے آنے کا انتظار رہا

تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسمِ بہار رہا
پا بہ زنجیر، زلفِ یار رہی
دل اسیرِ خیالِ یار رہا
ساتھ اپنے غموں کی دھوپ رہی
ساتھ اک سروِ سایہ دار رہا
میں پریشان حال آشفتہ
صورتِ رنگِ روزگار رہا
آئینہ آئینہ رہا پھر بھی
لاکھ در پردۂ غبار رہا
کب ہوائیں تہہِ کمند آئیں
کب نگاہوں پہ اختیار رہا
تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل
تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا
رسا چغتائی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے