ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
نئے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں
میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے
تمہارے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں
اُسے جو دھوپ لئے دل کے گاؤں میں اترا
رہٹ سے ،چاہَ ، کا پانی پلانے والی ہوں
کہو کہ چھاؤں مری خود سمیٹ لے آ کر
میں اب گھٹا کا پراندہ ہلانے والی ہوں
جہاں پہ آم کی گٹھلی دبی تھی بھوبھل میں
وہیں پہ اپنے دکھوں کو تپانے والی ہوں
اس اَلگنی پہ اکیلے لرزتے قطرے کو
بنا کے نیناں میں سرمہ لگانے والی ہوں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے