”ترا خیال اور میں“ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

”ترا خیال اور میں“۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ

شاہد ذکی، قبیل سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر رفیق لودھی کا اولین شعری مجموعہ ”ترا خیال اور میں“اُس کے سچے،کھرے اور جدید تر غزل گو ہونے کی عمدہ گواہی ہے۔ رفیق لودھی معاصر غزل نگاروں میں ایک سنجیدہ فکر اور مختلف اسلوب کے شاعر طور پر اپنا مقام مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اُس کی غزلیں رومان وحقیقت کا بہترین امتزاج ہیں۔ اس نے اپنی ذات اور حیات وکائنات کوشاعری کا حصہ بنایا ہے۔ رفیق لودھی معاشرتی اقدار کا شاعر ہے،وہ سماجی شکست وریخت کی مذمت کرتا ہے اور انسانی رشتوں کے تقدس کا پورا لحاظ رکھتا ہے۔جدید ا ردو غزل کے اس شاعر کے یہ دو شعر ملاحظہ کیجیے:
بچھڑنے والے بچھڑتے چلے گئے لودھیؔ
کسی دعا کسی رشتے سے کٹ گئے ہم لوگ

شجر شجر سے گرے برگ آنسوؤں کی طرح
کہ ایک پھول کے مرنے پہ باغ رویا تھا
رفیق لودھی نے عہد حاضر کی عکاسی کے ساتھ ساتھ نئے زمانے کی خواہش کی ہے۔ اس کی متعدد غزلیں پر خار وادیوں میں سفر کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس نے عامیانہ قسم کے خیالات ومضامین کو اپنے تخلیقی جوہر سے ندرت اور جدت عطا کی ہے،مثلاً وصال کا موضوع اردو شاعری میں کوئی نیا نہیں لیکن رفیق لودھی نے وصال کو بھی ایک نئی جہت دینے کی کامیاب سعی کی ہے:
وصالِ جسم کوئی دائمی وصال نہیں
جدا جدا ہی رہیں گے ترا خیال اور میں

پرند شاخ پر ہیں اور تتلیاں گلاب پر
میں رو پڑا ہوں ہجر میں وصال دیکھتے ہوئے
رفیق لودھی نے اپنی ذات کے اندر کے الاؤ کو بھی شعری پیکر دیا ہے اور زمانے کے محسوسات،مشاہدات اور تجربات کو بھی نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ اس کی شاعری زندگی سے جڑی ہونے کے باوجود بھی بھر پور شعریت اور غنائیت رکھتی ہے۔ اس نے مجاز کے دائرے میں رہتے ہوئے واردات کی صحیح اور سچی عکاسی کی ہے۔وہ عصری مسائل کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہے،اس نے غربت،معاشی عدم مساوات،طبقاتی تفریق اور موجودہ انسانی رویوں کا ذکر کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ ترقی پسند جدید شعری میلانات سے متاثر نظر آتا ہے۔ یہ شعر دیکھیے:
بھوک رشتے نگل گئی لودھیؔ
وقت نے آدمی کو بیچ دیا

ابھی چراغ تلے مستقل اندھیرا ہے
ابھی شعور کو انسان تک پہنچنا ہے
رفیق لودھی نے زمانے کی ناانصافی، استحصال کاشکار، مظلوم،مجبور،نچلے اور پسے ہوئے طبقے کی نمایندگی کی ہے۔ ظلم آخر ظلم ہے،ظلم کی رات کتنی بھی تاریک اور لمبی کیوں نہ ہو کٹ جاتی ہے۔ظلم کا اندھیرا صبح کے آفتاب کے ہاتھوں زائل ہو جاتا ہے۔لودھی کی شاعری مفلس،مجبور،لاچار اور حالات کے ستائے ہوئے افراد کے لیے امید کا پیغام بھی ہے،یہ شعر دیکھیے:
آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
تھک کے گر جائے گی جب رات سفر کرتی ہوئی

کہیں شمار نہیں رزق کا کسی کے پاس
فقط مجھی پہ قناعت سے آب ودانہ کھُلا
رفیق لودھی متعدد جدید اردو غزل گو شعرا سے متاثر دکھائی دیتا ہے لیکن اس پر زیادہ اثرات شاہد ذکی کے مرتب ہوئے ہیں۔اس بات کا اظہار وہ خود بھی کرتا ہے اور اس کی شاعری میں شاہد ذکی کا رنگ بھی بڑا واضح نظر آتا ہے،مثال کے لیے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
قریب ہوتے ہوئے فاصلے سے دیکھتا ہے
وہ شخص مجھ کو عجب زاویے سے دیکھتا ہے

کہاں کوئی مجھے میری نظر سے دیکھے گا
ہر آدمی کہ یہاں واسطے سے دیکھتا ہے
________
جسے بھی دیکھئے منظر اٹھائے پھرتا ہے
تمام عمر نہ مجھ پر مرا زمانہ کھلا
________
مری تو ناؤ سمندر کے بیچ تھی مضطر
قریب دور کنارا نہیں کھلا مجھ پر
________
چٹان کاٹ رہا ہوں میں نوکِ ناخن سے
مرے جنون کو زخمِ جگر نہیں دِکھتا
ان اشعار سے محسوس ہوتا ہے کہ رفیق لودھی نے شاہد ذکی کی غزل کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اپنے پیش رو جدید غزل گو شعرا کے شعری مجموعے بھی سرہانے رکھے ہیں۔یہی اس کی پختہ گوئی کا راز ہے،وہ کافی ریاضت اور تخلیقی عمل سے شعر کو گزارکر اپنے جذبات و احساسات بیان کرتا ہے۔ اس نے حسن و عشق،ہجر ووصال،سماجی،سیاسی اورانسانی اخلاق واقدار جیسے روایتی موضوعات کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ اس نے تشبیہ و استعارے کا عمدہ اور بر محل استعمال کر کے مصرعے کو خوب صورت،رواں اور تازہ بنایا ہے۔ رفیق لودھی نے متعدد نئی تراکیب بھی تراشی ہیں۔ اس نے غزل میں علامتی اور متفسر لہجہ بھی برتا ہے:
مجھے اندھیرے میں سائے دکھائی دیتے تھے
چراغ جلتے ہی مجھ پر نگار خانہ کھلا
ّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّ__________
قیدِ بدن میں روح تڑپتی ہے کس لیے
یہ کون آئنے میں دکھایا گیا مجھے
__________
کسی نے چوم لیا ہے سلگتے ہونٹوں سے
مچل رہا ہے سو دردِ فزوں مرے اندر
رفیق لودھی نے گردشِ حالات،فصیلِ جسم،مقامِ دشت،قیدِ بیاں،چراغِ دروں،لمحہئ بے تابی،خطہئ شاداب اوربارِ ہوس جیسی خوب صورت تشبیہات استعمال کرکے اشعار میں حسن پیدا کیا ہے۔رفیق لودھی کی زیادہ غزلیں رومانوی ہیں،اس نے ہجر وہجرت،چراغ یاد،آنسو،نارسائی،حسرت،ماضی،تنہائی اور اداسی کے الفاظ استعمال کر کے اپنی شدت جذبات کا اظہار کیا ہے۔ رفیق لودھی با کمال شاعر ہے،اس کا شعری مجموعہ”ترا خیال اور میں“جدید اُردو غزل میں اہم اضافہ ہے۔

ڈاکٹرساحل سلہری

(19فروری،2019،سیالکوٹ)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے