تیرا احساس پانیوں میں رہے

تیرا احساس پانیوں میں رہے
بارشوں کی روانیوں میں رہے
ربط تجھ سے نہ کوئی بندھن ہے
اور دل خوش گمانیوں میں رہے
جب وہ میرے نصیب میں ہی نہیں
پھر یہ دل کیوں گرانیوں میں رہے؟
وصل کی داستاں ختم ہوئی
ہجر کی ہم کہانیوں میں رہے!
تُو مقدّر مرا، نصیب مرا
پھر بھی تُو بد گمانیوں میں رہے؟
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے