ٹیڑھی ترازو

ٹیڑھی ترازو
پھسلنا نہیں تھا
مگر اُس کے پھسلاؤ میں ایسی پھسلن تھی
کوئی رُکے بھی تو کیسے
وہ ہنستی تو عالم کو مسرور کرتی
وہ چلتی تو وعدوں کے مینار ٹھوکر سے مسمار کرتی
وہ رُکتی تو دنیا کو ٹھہرا کے رُکتی
نگاہوں کے گرداب ایسے
مسافر کو اپنی طرف دور سے کھینچ لیتے!
پھسلنا نہیں تھا
مگر میرے ہونٹوں سے باتیں پھسلنے لگیں
جھوٹی سچّی وہ باتیں جو پھسلاتی ہیں
کیا کہا ……؟
تم مرے گھر میں رہتی ہو، میری ہو، میری!
تمہیں حق نہیں ہے کسی اور جانب کو پھسلو
تمہارے لیے صرف میں ہوں
یہ ہرگز نہ بھولو
کہ تم ”تم“ ہو اور میں تو صدیوں سے ”میں“ہوں!
شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے