توازن اردو ادب پروگرام نمبر51

خصوصی رپورٹ
پروگرام نمبر 51
از ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز
سیالکوٹ پاکستان
زیرِ انتظام
عالمی تحریک توازنِ اردو ادب
بتاریخ 24اپریل 2020 بروز
جمعةالمبارک
بوقت 5:00 بجے شام پاکستان
بوقت 5:30 بجے شام ہندوستان
تعارف تحریک توازنِ اردو ادب
احباب کو بتاتا چلوں کہ تحریک توازنِ اردو ادب کا پودا جو 13جولاٸی 2019کو لگایا گیا تھا وہ بڑے ہی کہنہ مشق باغبانوں کی تندہی سے کی جانے والی آبیاری کی بدولت ایک گہری چھاٶں والا تناور درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں چہار دانگ عالم میں میں پھیل چکی ہیں ۔ایک ایسا درخت جس کے پھولوں کو خوشبو دنیا بھر کی ادبی فضا کو معطّر کیے ہوٸے ہے۔تحریک توازنِ اردو ادب اپنے ادبی سفر کے 51سنگِ میل عبور کرچکی ہے۔تحریک توازنِ اردو ادب کے زیر انتظام ہر جمعہ کے روز ہونے والے مشاعرے میں آج تک تعطّل نہیں آیا۔گو کہ تحریک کی عمرتھوڑی ہے مگراس قلیل ترین عرصہ میں بھی تحریک توازنِ اردوادب نے بڑے بڑے ادبی معرکے سر کیے ہیں اور ان ادبی معرکوں کے پیچھے بانی تحریک جناب سر مسعود حساس صاحب، جناب کامل جنیٹوی صاحب انڈیا،جناب احمرجان صاحب رحیم یار خان،عامرحسنی صاحب ملاٸشیا،
عامر یوسف صاحب لاہور،عمران سرگانی صاحب،صابر جازب صاحب ،اشرف علی اشرف صاحب ،ظہورانور صاحب،اکمل حنیف صاحب،ڈاکٹر لبنٰی آصف صاحبہ لاہور،عظمی گوندل صاحبہ لندن اور روبینہ میر صاحبہ جموں وکشمیر جیسے زیرک اور معاملہ فہم سپہ سالاروں کا ہاتھ ہے ۔
احبابِ ذی وقار!!!!!!! تحاریک پیدا ہوتی ہیں ۔ادبی گروہ بنتے ہیں مگر کسی مشترکہ نصب العین نہ ہونے کے سبب جلد ہی دم توڑجاتے ہیں یا ان کا ہونا نہ ہونا ایک برابر۔مگر۔۔۔۔تحریک توازنِ اردو ادب اپنے قیام سے لے کر آج تک روز افزوں ترقی پرہے اور کی وجہ صرف یہی ہے کہ مادیت کے اس دور میں بھی کچھ حقیقی اساتذہ ذہنی بلوغت و بالیدگی کے فروغ کےلیے ہمہ تن آغوش ہیں اور اپنی علمی و فنونی قابلیت کے بل بوتے پر ذہنوں کو آسودگی بخش رہے ہیں ۔تحریک کے تحت ہونے والے ہفتہ وار مشاعرے کا عنوان پہلے سے دیا جاتا ہے اور شرکاٸے مشاعرہ اپنا کلام پیش کرتے ہیں مبصرین کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ پیش کیے گٸے کلام پر کھُل کر تنقید کریں اور مبنی براصلاح اپنی قیمتی راٸے سے شرکا ٕ کو نوازیں۔اس دفعہ منعقد ہونے والے مشاعرے کا موضوع”” تروینی”” تھا جس پر شرکاٸے مشاعرہ نے اپنا بھر پور کلام پیش کیا ۔
تعارف موضوع{{ تروینی }}
ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﻮ ﺗﯿﻦ ﻣﺼﺮﻋﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﻣﺼﺮﻋﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﺿﺎﻓﯿﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺟﮩﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺑﺎﻟﯽ ﻭﻭﮈ ﺷﺎﻋﺮ ﮔﻠﺰﺍﺭ ﻧﮯ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻠﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﺮﯾﻮﯾﻨﯽ ﮐﻮ ﺟﮕﺠﯿﺖ ﺳﻨﮕﮫ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ میں گایا
تروینی کا باغبان
سمپورن سنگھ کالرا جو گلزار کے نام سے جانے جاتے ہیں . آج 84 سال کے ہو گئے. ان کے فن و ادب کا طویل سلسلہ اب بھی جاری ہے. ان کی شاعری ہر دل کو چھو لیتی ہے. ان کی شاعری گیتوں اور فلموں سے سب واقف ہیں. لیکن میں آج ایک ایسی صنف شعر سے متعارف کروانا چاہوں گا جو گلزار صاحب کی تخلیق ہے.
تروینی کا لفظ بذات خود بھی گلزار کی تخلیق ہے. تروینی بھی سہ مصرعی شاعری ہے جیسے ہائیکو ماہیا اور ثلاثی.
تین اشعار والی تخلیق جسے جدید دور کی آزاد نظم بھی کہا جا سکتا ہے. تروینی کا تعارف گلزار کے اپنے الفاظ میں حاظر ہے.
"تروینی نہ تو مثلث ہے نہ ہائیکو نہ تین مصرعوں کہی ایک نظم . ان تینوں فارمز میں ایک خیال اور ایک معراج کا تسلسل ملتا ہے. لیکن تروینی کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے. تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے کبھی اضافہ کرتا ہے یا کبھی ان پر کمنٹ کرتا ہے. تروینی نام اس لئے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں. گنگا جمنا سرسوتی. گنگا جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں لیکن سرسوتی جو ٹیکسلا سے بہہ کے آتی تھی وہ زمین دور ہو چکی ہے. تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھاناہے جو پہلے دو مصرعوں میں چھپی ہوئی ہے.”
وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک مگر ایک دن
جو مڑ کے دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا
پھٹی ہو جیب تو کچھ سکے کھو بھی جاتے ہیں!
………
نہ ہر سحر کا وہ جھگڑا نہ شب کی بے چینی
نہ چولہا جلتا ہے گھر میں نہ آنکھیں جلتی ہیں
میں کتنے امن سے گھر میں اداس رہتا ہوں
………
میں بس بیٹھا ڈھونڈنے لگا مڑ کے
نہ جانے کیوں یہ لگا تم وہیں کہیں پر ہو
تمہارا سینٹ کسی اور نے لگایا تھا
……….
ایسے بکھرے ہیں رات دن جیسے
موتیوں والا ہار ٹوٹ گیا
تم نے مجھ کو پرو کے رکھا تھا!!
……….
تروینی کی صنف میں پاکستان میں شائع ہونے والی پہلی کتاب
"تروینی تیرے نام”
ہے جو وہاڑی کے شاعر زعیم رشید کی تصنیف ہے. 128 صفحات پہ مشتمل یہ کتاب نظمیہ پبلیکیشنز لاہور نے شائع کی ہے. جس کے فلیپ میں گلزار صاحب نے لکھا ہے کہ
"تروینی کا پودا لگا کر اب بڑی تسلی ہوئی ہے. یہ پھل پھول رہی ہے اور مجھ سے بھی اچھے باغبان ملے ہیں اسے. زعیم رشید کی خوبصورت تروینیاں پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی. زعیم نے یہ بیل اوپر تک پہنچا دی”.
زعیم رشید کی ایک تروینی حاضر ہے جو تروینی اور گلزار صاحب دونوں کو خراج تحسین ہے:
سونا کمرہ آخری شب اور ایک مہمان کی دستک
ہونٹ اس کے لال لال گلابی اور صورت بھی بھینی
سرحد پار سے ملنے آئی مجھ کو اک تروینی!!
آج بھی ہفتہ وار تنقیدی مشاعرے کا آغاز ہندوستانی وقت کے مطابق شام5:30 بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق 5:00بجے ہوا جس کی صدارت کی کرسی پرعامر یوسف صاحب براجمان تھے مہمانِ خصوصی کی نشست مشرف حسین محضر صاحب بھارت کے پاس تھی جبکہ مہمانِ اعزاز کی نشست پر جنید آزر صاحب اسلام آباد تشریف فرما تھے۔مشاعرے کی نظامت کے فراٸض اشرف علی اشرف صاحب نے جوکہ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں انجام دیے۔کسی بھی ادبی پروگرام کی کامیابی کا سہرا منتظم کے سر جاتا ہے جو پروگرام میں جان ڈال دیتا ہےاور اشرف علی اشرف صاحب نے اس کام کو خوب نبھایا ۔وہ اپنی پرکشش آواز سے خوبصورت لفظوں کا جادو جگاتے رہے۔شرکاٸے مشاعرہ کے نماٸندہ اشعار کو اپنی صوتیات سے دلنشین انداز سے پیش کرتے رہے۔
پروگرام کا آغاز حسبِ ضابط و سابقہ تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جسکی سعادت صابر جازب صاحب لیہ پاکستان اور ریاض انور بلڈانوی صاحب کو حاصل ہوٸی۔تمام شعرا نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کیا ۔ ذیل میں شرکاٸے مشاعرہ کے کچھ نمونہ جات پیش کیےجارہے ہیں _______
شعرا کرام کا نمونہ کلام
حمدِ پاک بارگاہ عزوجل
دیکھی ہیں تیری لوحِ جہاں کی تجلیاں
تو راقم رقیم ہے اے رب دو جہاں
موسیٰ کو تاب کب تھی کہ دیکھے تری جھلک
جلوہ ترا زعیم ہے اے رب دو جہاں
شام و سحر جو سانس کی خاطر ہے کیف زا
تو ہی وہی شمیم ہے اے رب دو جہاں
تجھ سے بڑا ہے کون جو بخشے گہنہ کو
صابر بہت اثیم ہے اے رب دو جہاں
صابر جاذب لیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمدپاک
وہی خدا،وہی معبود و رب ہمارا ہے
اسی کےہاتھ یہ نظم ِ جہاں بھی ساراہے
اسی کی مِلک ہے یہ کاٸنات بھی ساری
اسی کے شمس وقمر،اسکا ہر ستاراہے
ریاض انور بلڈانوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعتیہ تروینیاں
جھلملاتے ستارے انکھوں میں
روح میں خوشبوئیں بکھرتی ہیں
روبرو میرے سبز گنبد ہے
اک چٹائی ہے ایک مٹکا ہے
گھر میں دودن سے اس کے فاقہ ہے
چاند دو ٹکرے کر دیا جس نے
غزالہ انجم بورے والا پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب کا محبوب ھے تُو ، خوب ھے تُو
اس لئے خوب ھے ، محبوب ھے تُو
ذَالِکَ الکِتَابُ لَا رَیبَ فِیہِ
نور ھیں خدا کا ھُو بہُو
آپ کی ضیاء ھے چار سُو
دَافِعِ البَلَاءِ وّ الوَبَاء
مدثر اعظمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار موسم
چاہتوں کے موسم میں
دل کی سرزمینوں پر
بارشیں برستی ہیں
وصل کے مہینوں میں
ہجر پاؤں رکھتا ہے
آنکھ بھیگ جاتی ہے
خواہشوں کی قبروں پر
آنسوؤں کی قندیلیں
ساری رات جلتی ہیں
چار سو اداسی ہے
ہو کا ایک عالم ہے
رات دن برابر ہیں
حرف شناسی
لفظوں کا اک تانا بانا
روزوشب کی کھاڈی ہے
جس پر میری روح تنی ہے
سائیبیریا سا موسم
مغرب کی یہ سرد ہوائیں
تیرے ہی جذبوں جیسی ہیں
یہ طعنہ تو مت دو مجھ کو
یاد
وقت کی ریت سرکتی جائے
خواب مجسم ہونے تک
اپنے ماضی میں جیتے ہیں
اطلاع
سنو! تم کو بتانا ہے
جہاں رنگ وبو میں جاں
تمہارے بن نہیں کچھ بھی
میرے سورج
چار سو اندھیرا ہے
کچھ تو روشنی بخشو
تم تو من کے سورج ہو
کیسا چاند
میری قسمت کے آسمانوں پر
تیرے وعدوں کا چاند اترا تھا
وہ بھی کتنا گہن زدہ سا تھا
وقت عصر
زندگی شام کا ہے اک منظر
میری آنکھوں میں یاد کے بادل
اور بالوں پہ برف کا موسم
کھڑکی بھر آسمان
لبنیٰ تو ناز کر مقدر پر
مل گیا آسمان کھڑکی بھر
تیری پرواز کو یہ کافی ہے
ڈاکٹر لبنیٰ آصف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تروینی
ساتھ ہے نہیں کوئی
راستہ بھی لمبا ہے
پیڑ اک گھنیرا ہے
زندگی کی راہوں میں
چل پڑا ہوں میں تنہا
گول بھی یہ دنیا ہے
ہر طرف اندھیرا ہے
اک دیا جلانا ہے
کیا مہیب موسم ہے
ہر طرف خامشی کا ڈیرا ہے
کچھ تو بولو کہ بولنا ہوگا
زندگی اس طرح نہیں کٹتی
میں سمجھتا رہا جسے اپنا
وہ بھی غیروں سے مل گیا آخر
پہلے جیسی ہے زندگی اپنی
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے یہ دِل بھی تیر انداز
رخ ہے اپنی ہی جانب
چھوٹا تیر ، روٹھی ہیر !
باقی ہے تو سلوک اِک اب تک
آپ بیاج ہے باقی جب تک
قید میں ہیں تو ذات کی کیوں؟
مارنے والا بھی مر جائے
نزع کا عالم ہو تو خود
دِل کا شیشہ صاف ہو بس
کیسی جنّت کِس کا دوزخ
روٹھے ساجن سے اب اپنے
بات اپنی منوا ہی لو
آہوں کا بدلہ آہیں ہیں خود
ہر ظالِم کی ہے یہ زباں پر
ربِّ جہاں کا ہو جو اِرادہ
لینے کو آگ جو آئی تھی
بن آپ گئی وہ گھر کی دلہن
دیکھو یہ تمہاری یاد آئی
دیپ یہ پیار کے ہیں جو روشن
پھیلے پھن ہیں گویا انہِیں کے
ناگ پھنکارتے دیکھ تو لو
چوٹ ہے ہم نے کوئی کھائی
دیس میں اپنے رہ کے بےکل
داغ یہ دِل کے کون گِنے
عبدالرزّاق بےکل۔ کشمیر، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تروینیاں (توازن اُردو ادب)
رتجگا بھی قبول ہے مجھ کو
رات ساری اگر وہ پاس رہے
زندگی کی وہ آخری شب ہو
کوئی اُس کو بتائے یہ جا کر
تیرے بن وہ اُداس رہتا ہے
جسکی خوشیوں کا تو ہی مرکز تھا
توڑ دی ہے شراب کی بوتل
جب سے دیکھا ہے تیری آنکھوں کو
بھول بیٹھا ہوں مے کدے سارے
بہار بن کے اگر میرے ساتھ تم رہتے
گلاب پیار کے کھلتے چہار سمت یہاں
تو زندگی مری جنت سی بن گئی ہوتی
ہوئی جب تقسیم جائیداد بچوں میں برابر
ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں اب نظر آنے لگی ہیں
کاش بچوں کو نظر آتیں دراڑیں رشتوں کی بھی
خط جلائے ہیں ترے کل شب جلا کر دل کو اپنے
ہاں بہت تکلیف دہ یہ مرحلہ میرے لیے تھا
کیا کروں اب میرے بچے بھی جواں ہونے لگے ہیں
اکمل حنیف، لاہور پاکستان
صدر ادبی تنظیم اسلوب انٹرنیشنل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بالکل پہلی پہلی کوشش)
1: اعتراف
من میں آس لگا بیٹھا ہوں،
تجھ کو پاس بلا بیٹھا ہوں،
لیکن تو بیگانہ ہے
2: بہبود آبادی
اپنے سود کے چکر میں ہو،
تم بہبود کے چکر میں ہو
میرے دو ہی بچے ہیں
3: چاند
جب جب چاند کو تکتا ہوں،
تجھ کو دل میں سوچتا ہوں،
لیکن چاند میں دھبے ہیں
4: اطلاع
مجھ سے آنکھ ملا بیٹھی ہو،
میرے ہوش اڑا بیٹھی ہو،
دیکھو!! میں بے ہوش نہیں ہوں
5: بیگم
ایک بیگم ہی مجھ کو کافی ہے،
اور جو کچھ بھی ہے، اضافی ہے،
ویسے دل میں بھی چار خانے ہیں
اطہر حفیظ فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے خدا ! مجھے دولت کی آرزو تو نہیں
تو میری خاک کو توفیق دے اطاعت کی
میں اپنا تزکیۂ نفس کرنا چاہوں گا
خیال میں شبِ عاشور کا دیا جو بجھا
تو میرے دل میں عجب خوف ایک بیٹھ گیا
مری نظر کہیں، امکان واپسی پہ نہ ہو
گماں یہ میرا، زیاں کا سبب نہ بن جائے
کہ میرے دل میں محبت نہیں ہے عترت کی
حدیثِ صاحبِ ثقلین بھول جاتا ہوں
جوؐ غم گسار ہے،پرخار اسؐ کا آنگن ہے
کراہ پر بھی اسیروں کی بے قرار ہے جوؐ
شکار پھر بھی ہے طائف کی سنگ باری کا
خواجہ ثقلین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف اک عجب اداسی ہے
زرد سا ہو گیا ہے سبزہ بھی
آج تم جو نہیں ہو گلشن میں
آہٹیں دل کے سرد خانے میں
موم صورت پگھل کے گرتی ہیں
کتنا مشکل تمھیں بھلانا ہے
چاند راتوں میں چاندنی بن کر
میرے آنگن میں تم اترتے ہو
ہجر آنکھوں کو خیرہ کر تا ہے
خود شناسائی کے عزابوں میں
زخم جب بھی گنے محبت کے
سانس لینا بھی ہو گیا مشکل
ایک انجان تپتے رستے پر
رکھ دیے پاوں اپنے خوابوں کے
آج آنکھیں ہیں آبلہ بردار
غزالہ انجم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترووینی/ثلاثی
(اعتراف خدمت)
کتنے”حساس”ہیں ادب کیلیے۔
ہیں سبھی کیلیےبڑے”مسعود”
ہوسلام آپکومرانعمان!
ذہن ودل،ملک وقوم پرواری۔
فکروجذبہ،جہاد سےسرشار۔
نسل نوکےبناءومیں مصروف۔
کرونائ ادب!
عالمی دور میں عجب ہےسکوت۔
اک وباکاجہاں پہ ہےغلبہ۔
بن گئےسارےگھرقرنطینہ
ہندنےجب گذشتہ صدی میں۔
طب کی میزان میں”کرونا”پڑھا۔
جاناکیوں ہلکا تب”وبائ زکام”؟
گرچہ صدیوں سےہےجہان پہ راج۔
پھربھی بےبس ہے کیوں یہ طب جدید؟
کیوں نہ اس "وائرس”کاتوڑ کیا؟
نعمان انصاری۔صدربزم فکرتھل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تروینی
مجھ کو محبوب بھلا اور کوئی کیوں کر ہو
میری ہر بات میں بس ذکر ترا کیوں کر ہو
تو نے ہر بار مصیبت سے نکالا مجھ کو
اس نے سمجھا نہیں اس آنکھ کی ویرانی کو
میرے حالات کو اور میری پریشانی کو
میں نے پھر دور کہیں دور رہائش کرلی
پہلے خوابوں میں ڈھونڈتے گزری
پھر کنکھیوں سے تاکتے گزری
اب یہ جانا زبان لمبی ہے
میرے سر پر سوار جانِ جاں
جس کا رہتا خمار ، جانِ جاں
اب جو آئے تو ہوش اڑ جائیں
اس نے ہر بار شکایت کی ہے
مجھ سے جانے کی اجازت مانگی
میں نے اس بار حمایت کی ہے
خودکشی تو حرام ہے یارو
ایک خائن کے عشق میں مر کر
دیکھ پبلک نے خودکشی کر لی
عامرؔحسنی ملائیشیا
23 اپریل 2020
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانپ کے گزرنے پر ،پیٹنا لکیروں
کا
کس قدر ضروری ہے ،مجھ کوبھی بتادو تم
ہوسکے ازالہ کر، یہ بہت ضروری ہے
رت جگے کے عالم میں ،دیکھنا جو خوابوں کا
عادتیں ہماری ہیں ،اور بہت پرانی
ہیں
آنکھ جو کھُلی ہے اب، چھا رہی ہے مدہوشی
تم جو دیکھتے ہو اب ، سامنے نظر کے ہے
میں جودیکھتا ہوں وہ، کچھ پسِ نظر بھی ہے
دیکھ لو پسِ دیوار ،اک نظر ضروری ہے
موسمِ بہار میں جو ، رابطہ ضروری
تھا
فاصلہ بھی رکھنا ہے ، موت سے بھی بچنا ہے
وقت کا تقا ضا ہے ، فاصلہ ضروری ہیں
قرض ہے بہاروں کا ، ہم چمن گٸے نہ تھے
سُن سکے فُغاں نا ہم ، بُلبلِ پریشاں
کا
بیٹھ کے جو ٹہنی پہ ، ہجر میں بھی روتا تھا
اب کے تو بہاروں کا ، کچھ عجب سماں سا تھا
جب چمن کو دیکھا تو، پھولوں کا نشاں نہ تھا
بُلبلیں مری ہوٸیں ، جا بجا پڑی ہوٸیں
ڈاکٹر محمدالیاس عاجز
سیالکوٹ پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تروینی
کام آئی نہ دل لگی میری
بھاڑ میں جائے شاعری میری
یار میرا سخن شناس نہیں
سوچ کتنا حسین منظر تھا
لوگ غمگیں تھے ہار پر میری
اور وہ تالیاں بجا رہی تھی
گلاب سا مکھ تھا اس کا لیکن
نصیب اچھے نہیں تھے اس کے
کسی کو اک آنکھ بھی نہ بھاتی
ستم تو دیکھیے سب مستقل ہیں
حسیں لب اور آنکھیں شربتی، دکھ
محبت،عشق، چاہت، دل لگی، دکھ
ذہین تم ہو فطین تم ہو
گلاب جیسے حسین تم ہو
وفا نگر کے مکیں نہیں کیوں
اسامہ زاہروی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوٹ کے مت آنا
تم سے ہیں کچھ شِکوے
اب اور کیا بتلانا۔۔۔۔۔۔؟
اتنا بھی نہ جھوٹ کہو!
ہم نے یہ کب تھا کہا۔۔۔۔؟
تم میرے ہی بن کے رہو
یہ رات کیا بھاری ہے؟
ہم نے تو اندھیروں میں
اک عمر گزاری ہے !!
وہ ہنستے ہیں، تو ہنسنے دو
یہ ہجر کا موسم ہے
آنکھوں کو برسنے دو !!
مانا کہ —— دَغا دو گے
اے جانِ وفا— پھر بھی
ہم تم کو دُعا دیں گے
روبینہ میر۔ جموں کشمیر۔بھارت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تروینی
خود کشی ہرگز نہیں تھی قتل تھا مزدور کا
کیا امیروں کے پکڑ کر پاؤں ، پیسے مانگتا
ہاتھ پاؤں تھے سلامت ، بھیک کیسے مانگتا
مجھے وہی شخص ، یا خدا ! ٹالنے کا حیلہ بنا رہا ہے
جسے تو دے دے کے سب وسائل مرا وسیلہ بنا رہا ہے
سمجھ کے سونے کا ڈھیر ، گو ریت کا وہ ٹیلہ بنا رہا ہے
ترا قبضہ ہے آب و دانے پہ حاکم
ترے جام گرچہ لبالب بھرے ہیں
لبِ دشت لیکن مرے لب رکھے ہیں
جسم میں جو پیوست ہیں تیر عزیز ہیں مجھکو جانِ جاں
اور پیاری ہے مجھے جو میرے خوں سے رنگی ہے تلوار
تیر قلم ہیں میرے اور دیوار پہ ٹنگی ہے تلوار
عمران سرگانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” لا ” کا صندل دل کے اندر
جب جب مہکے ۔ایسا مہکے۔
مہکے ذات سمندر۔۔۔
ذات ،نفی اثبات کی دنیا !
دنیا کی ہر شے سے پیاری
ایک تمہارے ساتھ کی دنیا
ذات صفات کے اندر پھیلا کیسا گہرا ویرانہ
کس پر جا کر اپنے درد کی گرہیں کھولیں
کون سنے گا من بھیتر کا افسانہ
فون تو پہلی بیل پہ اٹھا تھا۔
رات کے شاید تین بجے تھے۔
وہ کیوں اب تک جاگ رہا تھا۔
میں نے کل ڈائری کا وہ صفحہ!
جس پہ لکھا تھا زندگی تو ہے۔
اپنے ہاتھوں سے رو کے پھاڑ دیا
ایمان قیصرانی ڈیرہ غازی خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات اپنے دکھوں کو روتی ہے
دن کے اپنے بڑے مسائل ہیں
آدمی خود میں کڑھتا رہتا ہے
اب مقدر سماجی دوری ہے
فاصلہ رکھ کے اس سے ملنا ہے
میری نس نس میں جو سمایا ہے
صبح دم شور تھا پرندوں کا
میں نے والفجر کی تلاوت کی
بھر گیا اطمینان سے مرا دل
شہر میں پھول کی دکانوں پر
اس قدر ہولناک ویرانی
دیکھئے تو بہار کے دن ہیں
بیٹھ کر کچی چھت کے ڈھابے پر
اور کچھ پانچ تاراہوٹل میں
اپنا اپنا نصیب کھاتے ہیں
جنیدآزر
خطبہ مہمان اعزازی
حاضرین مجلس
سب سے پہلے تو توازن اردوادب گروپ کی انتظامیہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس مشاعرے میں مجھے مہمان۔اعزاز کے طور عزت بخشی۔ میں صدر مشاعرہ ، مہمان خصوصی اور مشاعرے میں شریک تمام احباب کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں جنہوں نے بہت عمدہ اور خوب صورت ترہوینیاں پیش کیں ۔۔ آپ سب کے لیے بہت دعائیں ۔ کل سے رمضان المبارک کا آغاز ہو رہا ہے ۔۔ اللہ کریم اس ماہ مقدس کی برکتوں کے دروازے بالخصوص مسلم امہ اور عالم انسانیت پر کھول دے اور موجودہ کرونائی صورت حال سے نجات دے۔ آمین ۔ آپ سب کا بہت شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلے تو حل نہیں ہوسکتے جنگوں سے مگر
جنگ ہی جب مسئلہ بن جائے تو پھر کیا کریں
جنگ پر پھر امن کے احساس کو ترجیح دیں
ہمارے گھر کے آنگن میں اُگ آئیں نفرتیں کیسی
کہ بچے کھیل میں تقسیم کا نقشہ بناتے ہیں
عجب انداز سے بدلی ہے کروٹ عہدِ حاضر نے
ابھی تک اپنی سمتوں پر جنھیں چلنا نہیں آیا
ہری اور لال بتی کا بھلا وہ راز کیا جانیں
یہ بھولا پن ہمارے گاؤں کی پہچان ہے پیارے
بستی کے چراغوں کو جو رکھتی ہو نظر میں
تم ایسی ہواؤں سے تعلق نہیں رکھنا
ظلمت سے رہیں تاکہ سدا پاک دل و جاں
یہ سوچ کے خاموش ہی رہتے ہیں میاں ہم
خوابوں کے سمندر کا کنارہ نہیں ہوتا
بے سمت سفر کرنے سے حاصل بھی نہیں کچھ
کب تک یہ ذلتوں کی گزاروگے زندگی
اٹھو کہ اب تو سر سے بھی پانی گزر گیا
اسلاف کی شجاعتیں خوں میں نہیں ہیں کیا؟
صحرا مزاج شخص کی باتوں سے یوں لگا
جیسے نمودِ زیست سے نسبت نہیں کوئی
بے نور کر دیا ہے غمِ انتظار نے
خود اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈنے والے
ہتھیلیوں کی لکیروں کو کیا پڑھیں گے میاں
انھیں تو چاند بھی سورج دکھائی دیتا ہے
کاغذی پھول ہیں مہکے ہیں نہ مہکیں گے کبھی
یہ سمجھتے ہو تو پھر ان کو سجاتے کیوں ہو
دوستو اب تو تصنع سے بری ہو جاؤ
میں آشنا ہوں حقیقت سے دنیا والوں کی
مرے لیے تو جفا و ستم کی بات کرو
کسی کے مجھ پہ کرم ہوں مرا نصیب کہاں
میں وہ یوسف ہوں کوئی جس کا خریدار نہیں
فن کی منڈی میں اکیلا ہی کھڑا ہوں اب تک
اب کوئی مفت بھی چاہے تو میں بک سکتا ہوں
جا بجا نقرئی پازیب کے بکھرے گھنگرو
کسی بارات کے لٹنے کا پتا دیتے ہیں
اب مرے شہر کی سڑکیں بھی نہیں ہیں محفوظ
یوں تو روشن کیے ہر گام چراغِ تدبیر
پھربھی تقدیر کی راتوں کا اندھیرا نہ گیا
اس پہ بھی صبر کے دامن کو نہ چھوڑا میں نے
خوب پرکھا ہے تجھے گردشِ دوراں ہم نے
وہ نہیں ہم کہ تجھے دیکھ کے گھبرا جائیں
ہم کہ رکھتے ہیں فقط جہدِ مسلسل پہ یقیں
ایک مدت میں ملاقات ہوئی ہے تم سے
کیوں نہ تنہائی میں پھر بیٹھ کے کچھ بات کریں
درد کو بانٹنے کا ایک طریقہ ہے یہی
ہر خواب زندگی کا مسمار ہوگیا ہے
پھر بھی لبوں پہ اپنے شکوہ نہیں ہے کوئی
شاکر ہیں اے خدا ہم تقدیر کے لکھے پر
پیٹ تھامے ہوئے کوئی مفلس
بھوک سے جب بھی تلملاتا ہے
اس پہ دھنوان مسکراتے ہیں
مری بربادیوں پر ہنسنے والو
تمھیں اس روز رونا بھی پڑےگا
تمھارا آئینہ جس دن بنونگا
وہ کر رہا ہے کس لیے میری برائیاں
اے دوست جس کی ذات سے واقف نہیں ہوں میں
وہ بھی مرے حریف کا ہمراز تو نہیں
ہوا سے اتنی گزارش ہے ان دنوں محضر
بس اک چراغ مری دسترس میں جلنے دے
اندھیرے گھر میں اترنے کی ضِد پہ ہیں قائم
خبر کیا تھی مری قسمت مجھے یہ دن دکھائےگی
مرے بچوں کے ظالم طشت میں سر لے کے نکلیں گے
مگر یہ خون بھی اک روز محضر رنگ لائے گا
حبس گاہِ شہر سے لوٹا ہوں محضر جب بھی میں
مجھکو اپنے گاؤں کی آب و ہوا اچھی لگی
اس لیے میں گاؤں کا رستہ نہیں بھولا کبھی
مشرف حسین محضر
علی گڑھ بھارت
خطبہ مہمان خصوصی۔
پروگرام نمبر 51 بعنوان تروینی نہایت شاندار اور کامیاب ترین رہا میرے خیال سے برقی دنیا میں تروینی پر یکتا پروگرام ہے گلزار صاحب کی ایجاد کردہ تروینی پر پاکستان کے معروف شاعر و ادیب شاعر علی شاعر صاحب نے کافی کام کیا اور تروینی پر باقاعدہ ایک زخیم نمبر شائع کیا جس میں دنیا بھر کے شعرائے کرام کی تروینیاں شامل کی گئیں دراصل تروینی من موہنی صنفِ سخن ہے تروینی کی سب خاص بات یہ ہے کہ اگر اس کے تیسرے مصرع کو ہٹا دیا جائے تو شعریت باقی رہتی ہے اور شعر پر تیسرا مصرع اس انداز سے چسپاں کیا جاتا ہےکہ اس میں مزید خوبی پیدا ہو جائے –
توازن اردو ادب کا اس صنف پر پروگرام کرنا واقعی مستحسن اقدام ہے
کیونکہ احقر ادب کے ساتھ سیاست میں بھی دخل رکھتا ہے لگاتار دو مرتبہ اپنے حلقہ سے منتخب رکن بلدیہ ہے اور بھارت کی مقبول ترین سیاسی جماعت بہوجن سماج پارٹی سے ضلع علی گڑھ کا کو آرڈینیٹر بھی ہے انہی سیاسی مصروفیات کے باعث گروپ میں اپنی حاضری درج نہیں کرا پاتا جس کا احساس بدستور رہتا ہے لیکن احقر کا سیاست کرنے کا طریقہ موجودہ سیاست دانوں سے الگ ہے
احقر کا ایک شعر
وہ عبادت بھی سیاست کی طرح کرتے ہیں
میں سیاست کو عبادت کی طرح کرتا ہوں
خاکسار کو توازن اردو ادب کے عالمی پروگرام میں بحیثیت مہمانِ خصوصی جو اعزاز بخشا ہے سچ تو یہ ہے کہ خاکسار خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا کیونکہ گروپ میں بر صغیر ہند کی بہت قداور ادبی شخصیات شامل ہیں ان میں سے ہی کسی کو یہ ذمے داری سونپ نی چاہیے تھی خاکسار نے تو اس اعزاز کو آپ کی محبت اور ﷲ کا کرم سمجھ کر قبول کر لیا ورنہ خاکسار کہاں اور یہ اعزاز کہاں
اک ستارہ ہوں بس ٹمٹماتا ہوا
میں ادب کا کوئی ماہِ کامل نہیں
جس بلندی پہ لایا گیا ہے مجھے
سچ تو یہ ہے کہ میں اس کے قابل نہیں
احقر
آج کے اس پروگرام میں سب ذیادہ اگر کسی نے متاثر کیا تو وہ نظامت ہے دورانِ نظامت جن اشعار کا انتخاب کیا گیا وہ اپنے آپ میں یکتا تھے
شاندار نظامت کے لیے پھر ایک بار مبارکباد
جہاں تک تروینی کے تعلق سے پروگرام میں پیش کی گئیں تخلیقات کا سوال ہے تو وہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک رہیں یوں تنقید تو ہر بات پر کی جاسکتی ہے جملہ لکھاریوں کو دل سے مبارکباد
سامعین ناظرین اور شائقین نے بھی قلم کاروں کو بھر پور داد و تحسین سے نوازہ ان کا شکریہ
آخر میں توازن اردو ادب کے جملہ عہد یداران کو ڈھیروں دعائیں کہ وہ آج کے اردو کش دور میں بھی اردو کی شمع جلائے ہوئے ہیں ﷲ ان کو مزید ہمت و طاقت عطا کرے تاکہ وہ اردو کا چراغ جلائے رکھیں آمین
خاکسار
مشرف حسین محضر
علی گڑھ یوپی انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تروینی کشمیر کی عظیم جدوجہد کے نام”
وادی پہ وہی پہرے اور قفل وہی دل پر
مرنا ہے کہ جینا ہے یہ فیصلہ ہو جائے
کچھ پھول ہی کھل جائیں کچھ داغ چمک جائیں
بڑھا نہ درد کو اتنا کہ شب گزر نہ سکے
صدا کے پاؤں پہ زنجیر لب ہیں لب بستہ
یہ چاند اب کے مری آرزو کا چاند نہیں
شفق کی لالی افق خوں بہ رنگ درد کے رنگ
کہیں بھی حیلہِ تسکیں نہیں اور اک تری یاد
بہت اداس ہے دل کچھ بجھا بجھا سا ہے
بیاباں بیاباں نظر دیکھتی ہے
خیاباں خیاباں ہنر دیکھتی ہے
پھر آج آنکھ سے قطرہ اک خوں کا ٹپکا
تمام شب دلِ بستہ تلاش کرتے رہے
ہر اک ستارا ہوا صبح امید سے گل رنگ
ہر اک گلاب سے نکلا مرے خیال کا رنگ
عامر یوسف لاہور پاکستان
خطبہِ صدارت
معزز خواتین و گرامیِ قدر حضرات
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کی کامیاب محفل کے انعقاد پر توازن اردو ادب گروپ کی انتظامیہ کے تمام عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ تبارک تعالی کا شکر گزار ہوں کہ مجھ سے ذرہِ ناچیز کو اس لاٸق سمجھا گیا کہ آج کی محفل کی صدارت کا شرف بخش دیا گیا
توازن اردو گروپ کی ادبی سرگرمیاں کا تعارف ایک خوشبو کی طرح ہر سو پھیلتا جا رہا ہے اور اس نے اہلِ ادب اور حرفِ ہنر کے ہاں وہ ممتاز اور نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے جو سال ہا سال کی مشفقانہ اور شبانہ روز کاوشوں کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتا اس کی ابتدا جس یقین اور اعتماد کے ساتھ رکھی گئی تھی وہ چراغ اردوِ ادب ہفتہ وار نشست آرائی کی منازل طے کرتے کرتے اب مشعل راہ بن گیا ہے تحریک توازن اردو کا کارواں اپنے مقرر کردہ مقصد کے مطابق مسلسل سبک خراماں رواں دواں خوب سے خوب تر کی جانب گامزن ہے۔
دراصل اس تحریک کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک ایسا خاکہ حیاتِ ادب تخلیق کرنا ہے ۔جس میں تخلیقِ ادب توازن و اعتدال کے راستوں پر چلتے ہوے اتحاد، اخوت باہمی محبت و احترام ۔رواداری یگانگت، محبت، امن و آشتی کے ایسے رنگ بھرے جائیں کہ اس سے تخلیق ادب کے خیاباں میں پھول ہی پھول ہر طرف بکھر جائیں اس تحریک نے اپنی ادب دوستی اور جہدِ مسلسل کی بنا پر وہ وہ ادبی ستارے چُن چُن کر اس تحریک میں سموئے ہیں۔ کہ جو اپنے خونِ جگر سے اس کی آبیاری کا ہنر رکھتے ہیں اور گروپ کے تمام اراکین شب و روز اردو کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں میں لگے ہیں جن میں محترم مسعود حساس صاحب جناب احمر جان جی عامر حسنی جی اور دیگر خاموش اہلِ وفا اپنی بساط بھر کوششوں کے ساتھ اردو کے فروغ کے لٸے ان کے شانہ بشانہ مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔ کسی اور گروپ یا ادارے میں اتنی متانت ثابت قدمی اور سنجیدگی کے ساتھ یوں گوناگوں موضوعات پر اتنے معیاری پروگرام کا انعقاداب تک ممکن نہیں انتظامیہ کی انتھک محنت اور پرخلوص کوششوں کی بدولت اردو ادب میں ہر موضوع اور صنف سخن پر خوبصورت تخلیقی رجحانات نمو پا رہے ہیں گروپ کے سبھی ممبران کی وفا اور محبت بشرطِ استواری انتظامیہ کو ہمہ وقت بہتر سے بہتری کی طرف مسلسل کمک پہنچا رہی ہے ۔اور اس کے لٸے میں انتظامیہ اور گروپ کے سبھی ممبران کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔
آج کا پروگرام بعُنوان ”تروینی“ بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا ہے تروینی۔۔۔تین مصرعوں کی ایک نظم ہے جو ماہیے، ہائیکو، ثلاثی اور سہ حرفی سے جدا ہے۔جیومیٹری میں مثلث یا تکون کے تین ضلعے ہوتے ہیں۔ تکون میں ایک ایسی خوبی ہے جو اس کو مربع یا مخمس سے الگ پہچان دیتی ہے ۔ مثلث کے تینوں ضلعے ایک ہی وقت میں آپس میں براہِ راست جڑے ہوتے ہیں اس تثلیت کا انسان کی تاریخ اور مذاہب کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔ قدیم ترین مذاہب میں سے ہندومت کی بنیاد بھی تین بڑے بھگوانوں پر رکھی ہے۔ فلاسفی میں ’’انسان، خدا اور کائنات‘‘کے درمیان رشتے کی تلاش اور کھوج انسانی سرشت میں ہے۔ اور یہ سوال کہ انسان اور کائنات کو پیدا کرنے والا کون ہے؟ مالک کائنات کا سربستہ وجود کیا ہے بھی ایک مثلث کو جنم دیتا ہے۔ جو انسان کائنات اور خدا سے مل کر بنتی ہے یہ تثلیث عیسائی مذہب میں بھی پوری طرح سے موجود ہے۔ اس کے پھر معنی یہ ہوئے کہ تروینی اگر تین مصرعوں پر مشتمل ایک مکمل نظم ہے تو اس کے ہئیت میں اتنی قوت اور اس کی بُنت ایسی فطری ہے کہ اس میں زندہ رہنے کا پورا پورا جواز پایا جاتا ہے۔ شاعری میں اس لیے بھی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ غزل کے ایک شعر کے دو مصرعوں میں بسا اوقات بات پورے رنگ اثر کے ساتھ بیان نہیں کی جاتی اور اگر اس کو چار مصرعوں تک پھیلا دیا جائے تو ایک مصرعہ اضافی سا لگتا ہے جو ضرورتاً محسوس نہیں ہوتا۔ اسی طرح ثلاثی، سہ حرفی اور ہائیکو کا جواز ہے مگر ان کی ہیئت اتنی واضح نہیں لیکن تروینی کو موضوعاتی سطح پر محدود کر دینا اس کے امکانات کو محدود کر دینے کے مترادف ہے آج اس کی ہیئت کے اعتبار سے اس پر قلمکاروں نے عنوان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے تروینی کو اسی رنگ میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی۔ جو کہ اس کا طرہِ امتیاز ہے اور یقیناً بہت معیاری کلام پیش کیا ہے۔ اس جدید صنف سخن کو لے کر انہوں نے اپنے فکرو فن سے آج کی بزم کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔سبھی مشمولات قابلِ تعریف ہیں۔سبھی شرکاءٕ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام معزز ممبران، تمام حاضرین ، مہمانان ِ گرامی ، اور عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور صدقِ دل سے دعا گو ہوں کہ آئندہ بھی ایسی محافل کا انعقاد اسی تابندگی اور درخشندگی سے جاری و ساری رہے
انشااللہ
وسلام
آپ سب کا بھائی
عامر یوسف لاہور پاکستان
مورخہ ٢٤ اپریل ٢٠٢٠

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے