طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی
طارق عزیز ایک کامیاب شخص، ایک دنیا جس کی دیوانی تھی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی کا کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا، جو اس کو نہ جانتا ہو۔ شو بز انڈسٹری کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کی چمک دمک میں انسان کی اصلیت دب جاتی ہے۔ کہیں کھو جاتی ہے۔ طارق عزیز کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور انجام میں اس کی شخصیت کا وہ پہلو، جو شاید اس کا آئیڈیل تھا، کہیں نظر نہیں آتا۔
ستر کی دہائی میں پی ایس ایف پنجاب یونیورسٹی کے لیڈر، بھٹو کے مشیر برائے لیبر اینڈ سٹوڈنٹ یونینز، راجا انور، اپنے ناول ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں :
”پھر پسند آیا طارق عزیز؟ کل رات اس کی فلم کے سیٹ پر جب تم نے میرا ہاتھ تھاما، تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔ آدمی بہت پیارا ہے۔ جو کبھی ہم سفر نہ تھے، کہاں سے کہاں پہنچے۔ وہ ہے کہ اپنی ہی طرح مارا مارا پھر رہا ہے۔ یحیی خان کے دور میں اس کو سزا ہو گئی۔ وہ فلمی دنیا کی جنت سے نکل کر جیل کی ’دوزخ‘ میں آن پہنچا۔ بے چارہ اپنے ساتھ ہی سی کلاس میں تھا۔ مگر اس کا سر نہ جھکا۔ یہ اس کی انانیت تھی۔ دوسری جانب اس کی انسانیت دیکھو کہ ایک مرتبہ چندہ لینے ’اس بازار‘ میں گیا۔ کسی طوائف نے ساری پونجی اس کے حوا لے کر دی۔ طارق نے بھرے بازار میں اس کے پاؤں چوم لئے۔ ایک دفعہ میں نے اس کے ساتھ انتہائی غلط سلوک کیا۔ جب ملا تو شکوہ کرنے کی بجائے اپنے سمندر جیسے دامن میں مجھے یوں سمیٹ لیا، جیسے وہ صدیوں سے میرا ہی منتظر تھا“ ۔
اس وقت طارق عزیز لیفٹ کی سیاست کا سرخ جھنڈا اٹھائے ہوا تھا۔ اس کی یہ جھلک فلموں میں بھی ملتی ہے۔ فلم ’سوداگر‘ میں اس کے ہاتھ میں سرخ جھنڈے والی درانتی نظر آتی ہے۔ وہ سرمایہ دار سوداگر کے خلاف جاندار مزاحمت کا استعارہ بنا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ غیر ملکی سوداگر مقامی سردار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے شروع شروع میں سستا اناج فراہم کرتا ہے۔ کھیتی باڑی ختم کر دیتا ہے، پھر قوم کو اپنا مرہون منت بنا کر اناج ناپید کر دیتا ہے۔
طارق عزیز مقامی مزاحمتی لیڈر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ڈائیلاگ ڈیلیوری انتہائی خوبصورت ہے۔ قحط زدہ مردہ بچے کی کھلی آنکھوں کو دیکھ کر کہتا ہے ”ہماری زمینیں بنجر ہو چکی ہیں۔ ہمارے کھیت خاک اڑانے لگے ہیں۔ پہلے ہم محنت بوتے تھے اور سکھ اگاتے تھے۔ تم نے پوری قوم کو وہ آنکھ کیوں بنا دیا ہے جو کچھ دیر ایک اجنبی ( سوداگر) کا انتظار کرتی ہے، کچھ دیر روتی ہے اور پھر پتھرا جاتی ہے“ ۔
وہ سیاسی کارکن بھی تھا اور اکثر فلموں میں اس نے سیاسی کردار ہی کیے تھے۔ اسی فلمی سٹائل میں وہ بھٹو صاحب کے سیاسی جلسوں میں معراج محمد خاں کے ساتھ مل کر سرخ آگ بھڑکاتا رہا۔ اسی دور میں طارق عزیز کا کامیاب پروگرام نیلام گھر شروع ہوا۔
جب بے نظیر بھٹو واپس آئیں تو اس وقت طارق عزیز نواز شریف کی پار ٹی جوائن کر چکا تھا۔ پھر وہ لاہور سے الیکشن جیت بھی گیا۔ سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں میں ان کا نام تھا۔ اس وقت محفل تھیٹر میں شو ریکارڈ ہوتا تھا۔ لاہور ویسے ہی نواز شریف کا گڑھ رہا ہے۔ شو شروع میں سیاسی جلسے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ طارق عزیز نے اخبارات میں پرنٹ ہونے والی اپنی تصویر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں جج صاحب کی نیم پلیٹ اکھاڑ نہیں رہا تھا بلکہ سیدھا کر رہا تھا۔
یہ صفائی قبول نہ ہوئی اور بالآخر انہیں سیاست کو وقتی طور پر خیر آباد کہنا پڑا۔ پھر قائد اعظم لیگ اور آخری دور میں جب وہ جسمانی طور پر انتہائی کمزور ہو گئے تھے، عمران کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو دیکھ کر ہی راجا انور کے 1973 ء میں لکھے ہوئے الفاظ سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے دہرانے کو دل چاہتا ہے، ”جو کبھی ہم سفر نہ تھے، کہاں سے کہاں پہنچے“ ۔
طارق عزیز کی زندگی کا ایک اور پہلو ہے، ان کا ادبی کام۔ جب وہ کراچی گئے تو ’پندرہویں صدی‘ کے نام پر ایک ڈائجسٹ کا اجرا کیا۔ جو کہ ناکام تجربہ ثابت ہوا۔ ’پندرہویں صدی‘ میں اس وقت کی ایک کامیاب ٹی وی فنکارہ کا ذکر (منفی پہلو) عام ملتا تھا، جس سے ان کی ناکام محبت کے چرچے بھی عام ہوئے۔
اداکاری، سیاست، پرنٹ میڈیا اور محبت میں ناکامیاں سمیٹنے والا ٹی وی کا کامیاب ترین کمپئر لاکھوں دلوں کی محبت پاتا رہا۔ اتنی ناکامیوں کے باوجود کامیاب زندگی، پاکستانی سوسائٹی میں مڈل کلاس کی جہد مسلسل کا استعارہ ہے۔
سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے