طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دلِ زندہ! تیرے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
ہمیں یہ فکر اُن کی انجمن کس حال میں‌ ہو گی
انھیں یہ غم کہ اُن سے چھُٹ کے دیوانوں پہ کیا گزری
میرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اب تک
مگر اس عالمِ وحشت میں ایمانوں‌ پہ کیا گزری
یہ منظر کون سا منظر ہے پہچانا نہیں‌ جاتا
سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری
چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آ گئے لیکن
خدا کی مملکت میں‌ سوختہ جانوں پہ کیا گزری
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے