طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا

طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا
تجھے گنوا کے بہاروں میں دل نہیں لگتا
وہی نگر، وہی احباب ہیں ، وہی محفل
نہ جانے کیوں مرا یاروں میں دل نہیں لگتا
میں موج موج، تجھے دشت دشت ڈھونڈوں گا
مرا اب اپنے کناروں میں دل نہیں لگتا
ترے بغیر ہیں سنسان شہر کے رستے
نظر نواز دیاروں میں دل نہیں لگتا
بہت سے لوگ مرے آس پاس رہتے ہیں
میں کیا کروں کہ ہزاروں میں دل نہیں لگتا
اب انتظار مرے دل پہ بار ہو گیا ہے
تمہاری راہگزاروں میں دل نہیں لگتا
وہ کیا گیا کہ سماں ہی بدل گیا ساحل
نظر اُداس ہے تاروں میں دل نہیں لگتا
ساحل سلہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے