تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے

تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے
پھر کوئی رستہ ہُوا غم سا ہے
بات میں مری جو اِک رم سا ہے
دامنِ خواب مرا نم سا ہے
بے سبب جو کوئی برہم سا ہے
آنکھ میں ٹھہرا ہُوا دم سا ہے
کیا رفاقت کی فضا ہے جس میں
شک بہت اور یقیں کم سا ہے
ہے عجب اِس کی طَرَب انگیزی
دل کی نگری میں جو موسم سا ہے
منتظر آج بھی ہم ہیں اُس کے
ملنا جس سے ذرا کم کم سا ہے
بے کلی دل کی کہاں لے آئی
دوست ہے کوئی، نہ ہمدم سا ہے
سل گئے زخمِ جگر سب ہی میرے
درد ہی اب مجھے مرہم سا ہے
کون ہم سا ہے یہاں اے ناہید
جل بجھا عشق میں جو، ہم سا ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے