تر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلے

تر بہ تر اے چشم تجھ کو کر چلے
کم سے کم تیرا تو دامن بھر چلے
ساتھ اپنے کچھ نہیں لے کر چلے
سب یہاں کا تھا، یہیں پر دھر چلے
ہوتے ہوتے اور ہی کچھ ہو گیا
کرتے کرتے اور ہی کچھ کر چلے
رہ گیا باقی چراغوں کا دھواں
لوگ اٹھ کر اپنے اپنے گھر چلے
پانچویں تو سمت ہی کوئی نہیں
تِیر چاروں سمت سے دل پر چلے
پانچویں سمت اس گھڑی ہم پر کھلی
جس گھڑی ہم خاک کے اندر چلے
اک وفا رسمِ وفا ہوتی نہیں
رسم وہ ہوتی ہے جو گھر گھر چلے
یہ زمیں اس وقت تک موجود ہے
اِس زمین کا جب تلک چکر چلے
آخری لمحے لگا ایسے عدیم
جیسے ہم رک جائیں اور منظر چلے
خاک تھی دنیا کی جھولی میں عدیم
خاک سے ہم اپنا دامن بھر چلے
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے