تقسیم ہند اور کشمیر

تقسیم ہند اور کشمیر
دنیا کے نقشے کو دیکھ کر قابل افسوس اگر کچھ ہے تو وہ کشمیر ہے یا یوں کہنا بھی مناسب ہوگا کہ 73 سال بعد بھی درحقیقت کشمیر کو آزادی کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو سکا۔ کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے، تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے، آجکل کشمیر کافی بڑے علاقے کو سمجھا جاتا ہے جس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے، ریاست کشمیر میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے علاقے پونچھ، مظفرآباد، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے بھی شامل ہیں۔ گلگت اور بلتستان کو 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے فتح کیا تھا، اس سے پہلے یہ آزاد ریاستیں تھیں، پاکستان بنتے وقت یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے۔
وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے ذرخیز ہونیوالی سرزمین ہے، یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے لیکن اس جنت کے باسی لمحہ بہ لمحہ سکون کو ترستے ہیں، جس کی بنیادی وجہ اس خطے کے تنازعات ہیں جس کے سبب کشمیر 3 ممالک میں تقسیم ہے، جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر)، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم کا علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے، بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتاً کم اونچے پہاڑوں پر قابض ہیں، پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے پر ایک نظریے کا دعوٰی کرتے ہیں
کشمیر دنیا کا وہ بدقسمت خطہ ہے جس کو انسانوں سمیت 75 لاکھ نانک شاہی میں خرید کر غلام بنایا گیا تو کبھی جابرانہ فیصلے کے ذریعے اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی کی، انصاف کے عالمی دعویداروں نے ہمیشہ انصاف کے نام پر کشمیریوں کی نسل کشی اور تباہی کے منصوبوں کا ساتھ دیا۔ کشمیریوں نے آزادی کے لیے کئی لاکھ جانبازوں کی قربانی دی مگر عالمی قوتوں کی منافقت کے باعث آزادی کی یہ جنگ ظلم جبر اور تشدد کا نہ صرف سبب بنی بلکہ جنت نظیر وادی ایک فوجی کیمپٟ خوف، مایوسی اور تاریکی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ کشمیر وہ خطہ ہے جس کی ماضی میں مثال خوبصورتی، سرسبز و شادابی، قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑ، دنیا کے بہترین پھلوں، میووں، برف پوش پہاڑی سلسلوں، حسین وادیوں، یہاں کے باسیوں کے مثالی اخلاق اور جفاکشی، اسلام دوستی، محبت و بھائی چارہ، دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیری نوجوانوں کی مثالی خدمات اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حوالے سے دی جاتی تھی اور کشمیر کا ذکر آتے ہی انہی چیزوں کا تصور ذہن میں آتا تھا مگر آج جب کوئی شخص کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو فوراً جلاؤ گھیراؤ، فوجی کیمپ، عورتوں کی عصمت دری، خوف، ظلم و ستم، تشدد، غلامی، مایوسی، قتل و غارت، بچوں کا تاریک مستقبل، تقسیم در تقسیم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بھارتی تسلط کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود کشمیریوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ بے انتہا جانی و مالی نقصانات کے باوجود کشمیر کے عظیم سپوتوں نے اپنی آزادی کا سودا نہیں کیا۔ تنازع کشمیر کو دنیا کا قدیم ترین تنازع کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر نام نہاد مہذب دنیا نے اس تنازع کو حل نہیں کیا تو شاید دنیا میں پہلی باقاعدہ عالمی ایٹمی جنگ اور پھر دنیا کی ایک بڑی تباہی کا سبب کشمیر ہی بنے گا۔
تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ اور قبائلی حملہ کے حوالے سے تاریخ دانوں اورو قائع نگاروں میں خاصا اختلاف ہے۔ اگست اور اکتوبر 1947کے نہایت اہم فیصلہ کن تین ماہ کے دوران پیش آئے واقعات پر کئی ابہام ہیں۔ پچھلے 70سالوں سے اب اکثر مورخین بشمول کشمیری راہنماؤں نے بھی کسی حد تک اس تھیوری کو تسلیم کیا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کی ایما پرآئے قبائلی حملہ آوروں کے ذریعے برپا کی گئی غارت گری کی وجہ سے ہندوستان سے فوجی مدد مانگی ۔ جس کے جواب میں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے د ستاویز الحاق پر دستخط کرنے کی شرط رکھی ۔
اور اس کے نتیجے میں نظم و نسق کو بحال کرنے کی خاطر 27اکتوبر 1947کو ہندوستانی فوج سرینگر میں وارد ہوئی۔ اس بیانیہ کے مطابق اگر قبائلی حملہ نہ کرتے تو مہاراجہ ریاست کو آزاد مملکت کے بطور تسلیم کروانے پر تلے تھے۔ شیخ محمد عبداللہ کی خود نوشت سوانح حیات’ آتش چنار’ ہو یاان کے دست راست مرزا محمد افضل بیگ کی کتاب ‘خاک ارجمند ‘یا سابق وزیر اعلیٰ سید میر قاسم کی ‘داستان حیات’ سبھی لیڈروں نے ا س تھیوری کو مستعار لے کر کشمیر کی موجودہ صورت حال کو پاکستانی حکمرانوں کی بے صبری اور ان کی کشمیر کو جلد از جلد نئی مملکت میں ضم کرنے کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان میں بھی اکثر دانشور اسی تھیور ی کو قبول کرتے ہیں_
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کو (مسئلہ کشمیر کو) دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں، آج بھی آئے روز لائن آف کنٹرول پر گولہ باری اور سری نگر میں کرفیو کی صورتحال رہتی ہے، یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام اپنے حقوق کیلئے بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں
عامر جٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے