تپسیّا

تپسیّا

اے مرے دیوتا!
جانے کیا سوچ کر
نقش تیرے میں ازبر ہی کرتی گئی
تیری آنکھوں کو دیکھا تو دیپک جلے
تیری پیشانی نکھرا ہوا چاند تھی
تیرے ہاتھوں کی الجھی سی ریکھاؤں میں
میں نے قسمت کے رستے تراشا کیے
تیرے ہونٹوں کی مسکان میں بھی مجھے
سارے لمحے ٹھہرتے دکھائی دیئے
تیرے چرنوں پہ جب ہاتھ میں نے رکھے
مرے دِل میں مسرت کے گلشن کھِلے
چوم کر تیرے پاؤں کو اکثر یونہی
زندگی کو نئے معنی دیتی رہی
کھیلتے کھیلتے تیرے بالوں سے میں
زندگی کے سبھی غم بھلاتی رہی
تو میرا پیار تھا
اور میری ذات کے روپ اور رنگ کا
تو ہی تنہا مری جان حق دار تھا
بھول مجھ سے ہوئی
میں نے اپنی محبت کی ہر اِک کلی
بس ترے نام کی
میں کہ نادان تھی ،میں نہ سمجھی کہ یہ
جگمگاتے ہوئے نقش پتھر کے ہیں
ہاتھ،آنکھیں ،لب و رخ بھی پتھر کے ہیں
اُس کے سینے میں موجود دل
زندگی کی حرارت سے محروم ہے
سخت بے مہر ہے اور یہ بے حسی اُس کا مقسوم ہے

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے