تنہائی

تُو شہر میں نہیں تھا
اور شہرِ جاں کے اندر
کہرا سا بھر گیا تھا
تنہائی جم گئی تھی
آنکھوں کی پتلیوں میں
لمحے چٹخ رہے تھے
ہونٹوں کی پپڑیوں میں
رستے لپٹ گئے تھے
پیروں کی انگلیوں میں
تو شہر میں نہیں تھا
اور شہر کی ہَوا بھی
میلی سی لگ رہی تھی
خوشبو کے ہاتھ پاؤں
زنجیر ہو گئے تھے
ہم تجھ سے بڑھ کے تیری
تصویر ہو گئے تھے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے