تنہائیوں‌کی دھوپ

تنہائیوں‌کی دھوپ
مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے
کوئی بھی کیفیت،دل میں زیادہ دیر کب اترے
وہی تو جانتا ہے ، منتظر تھی کب سے میں اس کی،
سوالِ خامشی کے گرم میلوں کی دوپہروں میں
وہ آنکھیں جانتی ہیں، دیر تک اس بند مٹھی میں
میں اس بہتے ہوئے پانی کو، روکے رہ نہیں سکتی
خراشیں دُکھ رہی ہیں، پانی پڑتے ہی جلن، کچھ اور بھی ہوگی
جنوں کے حرف یکدم آنسوؤں کا اوڑھ کر چہرہ،
ٹپک کر چیختی چنگھاڑتی لہریں بہاتے ہیں
خدا جانے ، میں اپنی دھوپ کی پگڈنڈیوں کے موڑ ،
اندھیروں کے تعاقب میں کیوں ایسے دوڑ کر اتری
کہ ٹھاٹھیں مارتا پانی،
مری آنکھوں کی ساری سرخ اینٹیں توڑ کر نکلا
یہ آنکھیں جانتی تھیں پانی پڑتے ہی جلن،
کچھ اور بھی ہوگی
وہی یہ جانتا تھا ،
منتظر اس کی تھی میں کب سے
وہی اک پیاس تھی جو خشک ہونٹوں پر بنی سسکی،
اسی پانی کی، اس کو بھی بہت دن سے ضرورت تھی
کسی سائے بنا اس نے کبھی چلنا نہیں سیکھا
کسی بھیگی اداسی کا بھی ، کوئی پل نہیں چکھا
سو میں نے بخش دی ،وہ بھی۔۔۔
جو گھر میں ٹین کی چھت تھی
مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں جلنے کی عادت تھی
مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے ۔۔۔!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے