تنہا فقط مجھے ہی رُلایا نہیں گیا

تنہا فقط مجھے ہی رُلایا نہیں گیا
یاں کون ہے کہ جس کو ستایا نہیں گیا
مجھ کو ہی کوستے ہیں سبھی لوگ کس لیے
اب تک کسی سے عشق چھپایا نہیں گیا
فطرت کا اک نظام ہے تقسیمِ کار میں
اپنے لیے تو سب کو بنایا نہیں گیا
آنے میں اختیار نہ جانے میں اختیار
آیا نہیں گیا کبھی جایا نہیں گیا
مر مر کا ایک بت تھا مرے آئینے کے بیچ
جس پر کوئی بھی رنگ جمایا نہیں گیا
لوگوں نے پیڑ کاٹ دئیے دھوپ کے لیے
بس آسمان ان سے گرایا نہیں گیا
اے سعدؔ سن رہا ہوں میں اپنے وجود میں
ایسا ہی ایک نغمہ جو گایا نہیں گیا
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے