تعلق بس وہی ہے جس میں انا نہیں ہوتی

تعلق بس وہی ہے جس میں انا نہیں ہوتی
ترک تعلق قیامت ہے بتاؤ کیا نہیں ہوتی
جن ہاتھوں سے ہو محبت میں خیانت
ان ہاتھوں سے محبت کو شفا نہیں ہوتی
مجبوراً،چھوڑنا،وضاحتیں اور،معافیاں
یہ عام سی باتیں کیا دغا نہیں ہوتی
ہمارے بڑوں کی عزت سرآنکھوں پہ مگر
ہر بار ہر بات ان کی بجا نہیں ہوتی
آپ حکمراں ہے تو حضور حد میں رہئے
حکومت ماں سی ہوتی ہے خدا نہیں ہوتی
کوئی مقدمہ نہ کٹھرا نہ منصف نہ وکیل
قاتل عشق کونہ جانے کیوں سزا نہیں ہوتی
ابتدائے عشق تو ممکن ہے مگر سن لو
گر ہو جنون عشق پھر انتہا نہیں ہوتی
چراغِ جن کو کہا رہائی دلواو محبت سے
باندھ کے ہاتھ کہہ گیا میرے آقا نہیں ہوتی
رات پہ رات آتی ہے، آئے چلی جاتی ہے
ٹھہری وہی صبح جو تیرے بنا نہیں ہوتی
نبض دیکھ کر طبیب کہتے ہیں لاعلاج
عشق مرض ہی ایسا ہے،دوا نہیں ہوتی
جنگ لڑنا پڑتی ہے بے خوف تحمینہ،
جنگ تو جنگ ہے اس میں بقا نہیں ہوتی
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے