طلع البدر علینا

طلع البدر علینا

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب انسانیت صفحہ ہستی پر دم توڑ رہی تھی۔جہالت کے سیاہ بادلوں نے علم کے آسمان کو چھپا دیا تھا۔کفروالحاد کی ناپاک فضاؤں میں ایمان کی نبض رکنے کے قریب تھی۔ظلم و ستم،ہوا و ہوس کا بازار گرم تھا۔نوعِ انسانی منڈیوں میں جانوروں کے بھاؤ بِک رہی تھی۔زمین اپنے اوپر انصاف کے لیے ترس رہی تھی۔پھول اُگتے تو تھے لیکن اپنی نزاکت اور خوشبو سے محروم تھے۔صورت تو تھی لیکن سیرت ناپید تھی۔بصارت تو تھی لیکن بصیرت پر گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہواتھا۔انسانیت کی آنکھیں حق دیکھنے کے انتظار میں پتھرا گئی تھیں۔قوت سماعت اذانیں سننے کی متلاشی تھی۔ایسے میں پروردگار عالم کومخلوق پر ترس آ گیا اور ۲۱ ربیع الاول کی صبح نور میں فاران کی چوٹیوں سے ہدایت کا وہ چراغ روشن ہوا کہ عرش و فرش منور ہو گئے۔ہر طرف وحدانیت کی خوشبو بکھر گئی،ایوان کِسریٰ کے کنگرے گر گئے،ایران کا آتش کدہ بجھ گیا،دریائے ساوہ خشک ہو گیا،شیاطین کے مکرو فریب کی نبض رک گئی۔ظلمتیں کافور ہوئیں۔خزاں کے قدم اکھڑ گئے۔بہار نے مستقل ڈیرے جما لیے۔ستاروں نے سلامیاں دیں۔آفتاب و ماہتاب کی عید ہو گئی۔کہکشائیں جھومنے لگیں،آبشاروں کو ساز مل گئے۔
چرند، پرند،شجر و حجر نے خوشیاں منائیں،حورانِ بہشت کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ملائکہ کے درودو سلام کے ترانے چار وانگ عالم میں گونجنے لگے۔بلبلاتی انسانیت نے سکھ کا سانس لیا۔شرک کی زنجیروں میں قید انسانوں کو رہائی ملی۔انسان ابلیس کی دسترس سے باہر ہوئے۔رحمان کے عرفان کی طرف رہنمائی ملی اور”الافلاک لولاک لما خلقت ” کا تاج پہنے ہوئے "اول ما خلق اللہ نوری” کا سہرا سجائے ہادی برحق،محبوب خالق کون و مکاں تشریف لائے۔سبحان اللہ۔اور کون ہے جو انکار کر سکتا ہے کہ آقا کریمؐ کی دنیا میں تشریف آوری ہی کائینات کی سب سے بڑی نعمت ہے جو پروردگار نے حضرت انسان کو عطا کی ہے۔نعمت پر خوشی کا اظہار انسانی فطرت ہے۔انسان دنیا کے لحاظ سے ہی جب اپنی مرضی کی چیز پاتا ہے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اگر اپنے فائدے کی چیز مل جائے تو کیا کہنے۔یہ تو عام منفعت کی بات ہے اور اگر وہ نعمت ملے کہ جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہو تو پھر کون ہو گا جو خوش نہ ہو سوائے اس شخص کے کہ جسے اس نعمت کا احساس نہیں ہے،پہچان نہیں ہے اور قدر نہیں ہے۔دوسری بات یہ کہ کوئی بھی کسی پر احسان کرے اور وہ حق شکر ہی ادا نہ کرے تو اس سے بڑا بے فیض بھی اور کون ہو گا۔ایک بات سمجھنا اشد ضروری ہے کہ نعمت پر شکر ادا نہ کرنے سے خود نعمت عطا کرنے والی ذات بھی ناخوش ہوتی ہے۔سورۃ الضحیٰ:11 میں ارشاد ہے کہ اور میری نعمتوں کا خوب چرچا کیا کرو۔سورۃ البقرہ:243 میں ہے بے شک پروردگار اپنے بندوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر نا شکرے ہیں۔الزمر:7 میں ہے کہ اور وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا۔ابراہیم:7 میں آیا کہ اگر تم شکر ادا کرو تو میں مزید دوں گا اور کفر(انکار)کرو تو سخت عذاب ہے۔ابو داؤد:4814میں ہے کہ جس شخص کو نعمت یا تحفہ دیا گیا تواس نے یاد رکھا تو شکرگذاری ہے۔اگر چھپایا اور بیان نہ کیا تو نا شکری ہو گی۔مسند احمد: 9335 میں ہے کہ پروردگار کی نعمت کا چرچا کرنا شکر اور چرچا نہ کرنا کفر(ناشکری) ہے۔ترمذی:2034 میں فرمایا جس نے نعمت کو چھپا لیا تو اس نے نا شکری کی۔اس کے علاوہ پروردگار نے قرآن پاک میں التوبہ: 128،المائدہ: 19،،15،النساء:174، آل عمران : 81 اور البلد:3 میں اپنے نبی علیھم السلام کی آمد کے تذکرے فرمائے۔دیوان حسان بن ثابتؓ کے صفحہ:10 پر میلاد کے حوالے سے موضوع میلاد النبیؐ پر (واحسن منک لم ترقط عینی۔۔)بڑے معروف اشعار درج ہیں۔
آخر میں خود نبی پاکؐ اپنے میلاد کا تذکرہ فرماتے ہیں۔مشکوۃ:5759 میں ہے” حضرت عرباض بن ساریہؓ روایت کرتے ہیں کہ آقاکریمؐ نے فرمایا،میں تو اس وقت سے اللہ کے ہاں خاتم النبیین ہوں جب آدمؑ مٹی کی صورت میں تھے۔میں اپنی نبوت کے بارے میں بتاتا ہوں۔میں ابراہیمؑ کی دعا،عیسیؑ کی بشارت اور اپنی والدہؓ کا خواب ہوں،جو انھوں نے میری پیدائش کے قریب دیکھا تھا کہ ان کے لیے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلّات ان کے لیے روشن ہو گئے۔” پس نبی کریمؐ کی آمد کو پروردگار نے نعمت سے تعبیر کیا اور بالخصوص اس کا تذکرہ قرآن میں فرمایا اور خود نبی مکرمؐ نے صحابہؓ کی مجلس میں یہ تذکرے کیے بھی اور سنے بھی اور سن کر مسرت کا اظہار بھی فرمایا اور حسان بن ثابتؓ کو تو اپنی کملی بھی عطا فرمائی۔بلاشبہ انسانیت اگر آج انسان کہلانے کی حقدار بنی ہے اوردنیا و آخرت کی کامیابی کی امید رکھتی ہے تو آقا کریمؐ کے وجود اطہر ہی کا صدقہ ہے۔میلاد منانے کے غیر شرعی طریقوں سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔لیکن اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ طریق کار پر نہیں بلکہ اس کی آڑ میں سرے سے میلاد پر ہی اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس سے کچھ اور ہی ظاہر ہوتا ہے۔پروردگار سب کو ہدایت عطا فرمائے۔آمین
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے